|

وقتِ اشاعت :   June 7 – 2016

کوئٹہ : پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ بیان میں گزشتہ روز ضلع کوئٹہ کے کلی نوحصار میں پاکستان ائیر فورس ( پی اے ایف ) کی جانب بازئی عوام کے جائیداد اور زمینوں پر قبضہ کرنے کیلئے لائنیں کھینچنے کے اقدام کو غیرآئینی وغیر قانونی قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت اور وزارت داخلہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ کوئٹہ میں پی اے ایف کی جانب سے بازئی اور کاسی عوام کے آبائی زمینوں اور جائیداد پر جاری غیر آئینی وغیر قانونی قبضوں کے سلسلے کو روک کر قبضہ شدہ زمینوں کو فوری طور پر ختم کرائیں۔ بیان میں کہا گہا ہے کہ کلی نوحصار میں بازئی عوام کے 1500ایکڑ اور مصلخ جنگل میں 11ہزار 500ایکڑ اور سمنگلی میں کاسی عوام کے 3ہزار ایکڑ زمینوں اور جائیداد پر بندوق کی نوک پر غیر آئینی وغیر قانونی قبضے کے بعد گزشتہ روز پی اے ایف کے اہلکاروں نے کلی نوحصار میں ایک بار پھر بازئی عوام کے باقی ماندہ زمینوں پر قبضہ کرنا شروع کیا ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پی اے ایف انتظامیہ کوئٹہ میں آئین وقانون اور صوبائی حکومت اور صوبائی اسمبلی کے فیصلوں کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں کیونکہ صوبے کے عوام کے منتخب صوبائی اسمبلی اور صوبائی کابینہ نے کئی بار اس سلسلے میں فیصلہ کرکے پی اے ایف کے قبضوں کو غیر آئینی وغیرقانونی قرار دیا ہے اور بازئی وکاسی عوام کے زمینوں وجائیداد کی تحفظ کے سلسلے میں احکامات جاری کےئے ہیں لیکن پی اے ایف انتظامیہ نے ان فیصلوں کا ہر بار مذاق اڑا کر قبضوں کا سلسلہ بتدریج جار ی رکھا ہے اور ان زمینوں کو کاروبار اور ہاؤسنگ سکیموں کیلئے استعمال کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے بازئی اور کاسی عوام نے سخت غم وغصہ اور تشویش پیدا ہوئی ہے کیونکہ وفاقی حکومت کا ایک اہم ادارہ پی اے ایف صوبے میں آئین وقانون کو پامال کرکے عوام کی جائیدادوں اور ملکیت پر قبضوں میں مصروف ہے ۔بیان میں کہا گیا ہے کہ پی اے ایف کے اہم ادارے کی جانب سے آئین وقانون کے منافی اقدامات ملک کے مفاد میں ہر گز نہیں کیونکہ ان اقدامات سے عوام میں ریاست کیخلاف بیزاری پیدا ہورہی ہے ۔ لہٰذا وفاقی حکومت اور وزارت داخلہ سمیت عسکری حکام ان قبضوں کے سلسلے کو فوری روک کر قبضہ شدہ زمینیں پی اے ایف سے وا گزار کرائیں۔