|

وقتِ اشاعت :   June 8 – 2016

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے کوئٹہ کے سینڈیمن ہسپتال کی حالت زار اوروہاں مریضوں کو ادویات کی عدم فراہمی کے باعث بچوں کی اموات پرچیف سیکرٹری بلوچستان سے تین روز میں جواب طلب کرلیا۔ منگل کوچیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ ازخود نوٹس کیس کی سماعت شروع کی۔ چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار اور صوبائی ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ایازسواتی سے استفسار کیا کہ سینڈیمن ہسپتال میں ادویات کی عدم دستیابی کے باعث بچے مر رہے ہیں آخروہاں ادویات کی فراہمی کیلئے قدامات کیوں نہیں کئے جاتے، جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایاکہ بلوچستان حکومت اس حوالے سے اقدامات کررہی ہے تاہم سنڈیمن ہسپتال میں بچوں کی جانوں کے تحفظ کیلئے پنجاب سے ادویات فراہم کی جائیں گی۔ عدالت کو ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستا ن ایاز سواتی نے بتایاکہ ہسپتال میں مریضوں کے علاج ومعالجہ کیلئے ادویات نہیں مل رہیں، یہ ایک بڑامسئلہ بن چکاہے جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر ادویات موجود نہیں ہیں تو ادویات دوسرے ذرائع سے حاصل کی جائیں، عدالت بچوں کو یونہی بے یارومددگارنہیں چھوڑے گی، عدالت کوبتایاجائے کہ سیکرٹری صحت بلوچستان آخر کیوں پیش نہیں ہوئے توعدالت کوبتایاگیاکہ کہ سیکرٹری صحت بیرون ملک گئے ہیں اسلئے وہ عدالت میں پیش نہیں پیش ہوسکے،جس پرچیف جسٹس نے سماعت ملتوی کرتے ہوئے ہدایت کی کہ اگرسیکرٹری صحت موجود نہیں تو ان کی جگہ کسی دوسرے انچارج سیکرٹری آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہوکروضاحت کریں۔ بعد ازاں مزید سماعت ملتوی کردی گئی۔