|

وقتِ اشاعت :   June 9 – 2016

کوئٹہ : پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ بیان میں لا کالج کوئٹہ کے پرنسپل ممتاز قانون دان اور پارٹی کے علاقائی سیکرٹری حضرت عمر کے جواں سال بھائی بیرسٹر امان اللہ خان اچکزئی کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بدترین دہشتگردی اور انسانیت دشمن اقدام قرار دیا ہے ۔ اور قانونی نافذ کرنیوالے اداروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو پوری کرتے ہوئے بیرسٹر امان اللہ خان اچکزئی کے شہادت کے واقعہ میں ملوث دہشتگردوں کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ بیرسٹر امان اللہ خان اچکزئی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ممتاز قانون دان ونوجوان شخصیت تھے جو صوبے کے عوام اور باشعور وعلمی حلقوں کیلئے قیمتی اثاثہ وسرمایہ تھے جنہوں نے نہایت کم عمری میں اعلیٰ تعلیم ا ور باریٹ لا کی ڈگری حاصل کرکے اپنی علمی صلاحیتوں کو صوبے کے عوام کیلئے وقف کرنے کیلئے لا کالج کے پرنسپل کے عہدے کے فرائض سنبھالے لیکن گزشتہ روز کالج جاتے ہوئے اپنے گھر کے قریب دہشتگردوں کے انہیں دہشتگردی کا نشانہ بنا کر بدترین انسانیت دشمنی اور علم دشمنی کے جرم کا ارتکاب کیا ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ بیرسٹر امان اللہ خان اچکزئی کی شہادت کے واقعہ سمیت صوبے میں بدامنی وجرائم کے دیگر واقعات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ صوبے میں اب بھی دہشتگردی اور دیگر واقعات میں ملوث عناصر کی نیٹ ورک موجود ہے جن سے متعلق خفیہ ایجنسیوں کو مکمل معلومات حاصل ہے لیکن ان دہشتگرد عناصرپر ہاتھ نہیں ڈالا جاتا جو سرعام دہشتگرد ی اور دیگر جرائم کے وارداتیں کرکے فرار ہونے میں باآسانی کامیاب ہوجاتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سیکورٹی فورسز اور اداروں نے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور فرائض کو پوری کرنے کے بجائے صوبے میں متوازی حکومت بنا کرغیر آئینی وغیر قانونی طور پر سیاسی وسماجی سرگرمیاں شرو ع کر رکھی ہے اور صوبے کا تمام نظام اپنے کنٹرول میں لیا ہوا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ صوبے میں دہشتگردی اور بدامنی کے واقعات رونماء ہورہے ہیں ۔ بیان میں بیرسٹر امان اللہ خان اچکزئی شہید کے خاندان کے ساتھ دلی ہمدردی ویکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پشتونخوامیپ اور صوبے کے تمام عوام لواحقین اور پسماندہ گان کے غم میں برابر کے شریک ہے۔