|

وقتِ اشاعت :   June 10 – 2016

کوئٹہ : لاپتہ بلوچ اسیران شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 2339دن ہوگئے اظہار یکجہتی کرنے والوں میں آوران جھاو سے بلوچ نیشنل موومنٹ کے سنیئر عہدیداران کا ایک وفد لاپتہ افراد شہداء کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کی بھر پور تعاون کا یقین دلایا ۔ اور انہوں نے کہاکہ بلوچ قومی جہد آزادی کے خلاف سیاسی میدان میں کردار ادارکنے کے بعد بلو چ عسکری میدان میں بھی اپنا کردار ادا کرکے جس بہادری سے نو آبادکار فورسزز کے کلاف لڑتے ہوئے دشمن کے ہاتھوں ہزاروں بلوچ جام شہادت نوش کی وہ بلوچ قومی انقلاب کی قربانیوں کا تسلسل ہے بلوچ فرزندان وطن اپاپنے لہو سے سرزمین کی آبیاری کر رہے ہیں۔ ٹپکتے ہوئے لہو کی ہر بوند کے ساتھ قومی جذبہ سے سرشار ہزاروں فرزندان وطن اپنے لہو سے سرزمین کی فرزند جنم لے رہے ہیں۔ وائس فار مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ بلوچ نوجوانوں کی ٹارگٹ کلنگ ہو یا سر گرم بلوچ رہنماوں اور سیاسی کارکنوں کا آغوا مبینہ حراستی شہادت ایسے ناقابل نفرت برداشت واقعات سے مفاہمت تقریباً روز کا معمول بن چکے ہیں جس کے نتیجہ میں لاپتہ بلوچوں کی مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی اغواء اور بلوچ آبادیوں پر فورسز کی صورت میں برآمد ہوتی ہے ۔