|

وقتِ اشاعت :   June 11 – 2016

اسلام آباد:  سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے سیلز ٹیکس کے حوالے سے وفا ق اور صوبوں کے درمیان تنا زعہ کے حل کے لئے صو بوں کے محکمہ محصولات کے سر براہوں کو پیر کو طلب کر لیا،کمیٹی کا فنانس بل 2016-17 کا شق وار جائزہ لیا گیا، کمیٹی نے کمیٹی نے بلو چستان میں نولانگ ڈیم کیلئے پانچ ارب روپے مختص کرنے کی سفا رش کردی،کمیٹی کو آگا ہ کیا گیا ہے کہ عطاآباد جھیل ٹنل کا منصوبہ مکمل ہو چکا ہے، لواری ٹنل مارچ 2017 میں عام ٹریفک کیلئے کھول دی جائے گی ،پٹن سے رائے کوٹ شاہراہ رواں سال مکمل ہو جائے گا، بلوچستا ن کے کسانوں کو بغیر سود قرضے دینے کے حوالے سے کا م جاری ہے،ایف بی آر ٹیکس اکٹھا کرنے کے حوالے سے نظام کو بہتر کرنے کے لئے ایک نیا شعبہ قائم کرے گا۔جمعہ کو سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر سلیم ایچ مانڈوی والا کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا ۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں مالی سال 2016-17 کے بجٹ کے سلسلے میں اراکین کی جانب سے دی گئی سفارشات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ۔کمیٹی اجلاس میں سینیٹرزمحمد طلحہ محمود،نوابزادہ سیف اللہ مگسی،مفتی عبد الستار،ہدایت اللہ اور کرنل (ر) سید طاہر حسین مشہدی کی بجٹ بارے سفارشات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ۔سینیٹر نوابزادہ سیف اللہ مگسی نے کہا کہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق دار نے بجٹ تقریر میں بلوچستان کے پانی کے منصوبوں کو ترجیح دینے پر زور دیا تھا مگر پی ایس ڈی پی میں پانی کے منصوبوں بارے کچھ نظر نہیں آیا۔سیکرٹری پلاننگ نے کہا کہ RBODکیلئے1300ملین رکھے ہیں سندھ اور بلوچستان کا مسئلہ بھی حل ہو چکا ہے۔سمال ڈیم کے حوالے سے سینیٹر نوابزادہ سیف اللہ مگسی نے کہاکہ پہلے پیکج ٹو کو مکمل کر کے پھر پیکج تین کو شروع کیا جاتا اور پیکج ٹو کیلئے صرف ایک ارب روپیہ رکھا گیا ہے۔سمال ڈیمز پیکج ٹو کا تخمینہ 1658ارب روپے ہے۔انہوں نے نولانگ ڈیم کیلئے صرف ایک کروڑ روپے مختص کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں پانی کا شدید مسئلہ ہے اور جب تک چھوٹے اور بڑے ڈیمز قائم نہیں کئے جائیں گے ۔تب تک بلوچستان کی قحط سالی اور سیلابی تباہ کاری کو نہیں روکا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ نولانگ ڈیم کیلئے پانچ ارب روپے مختص کئے جائیں جس کی قائمہ کمیٹی نے بھی منظوری دے دی۔ سینیٹر نوابزادہ سیف اللہ مگسی نے تجویز دی کہ بلوچستان کے کسانوں کیلئے آسان شرائط پر زرعی ترقیاتی بنک قرضے دے اور فام مشینری کی امپورٹ پر دس سال کیلئے ٹیکس وصول نہ کیا جائے۔جس پر سیکرٹری خزانہ نے کہا کہ بلوچستا ن کے کسانوں کو بغیر سود قرضے دینے کا کام جاری ہے۔سینیٹر ہدایت اللہ نے تجویز دی کہ منصوبہ نمبر 730 جو کہ ناقئی ٹنل مہمند ایجنسی اور منصوبہ731جو گھات روڈ کی توسیع کے بجٹ میں اضافے کے متعلق تھا کی بھی منظوری دے دی گئی۔انہوں نے تجویز دی کہ باجوڑ ،کھر اور جندولہ روڈ کے بجٹ کو 100ملین سے بڑھا کو 500ملین کیا جائے۔سینیٹر مفتی عبد الستار کی سفارش کے حوالے سے قائمہ کمیٹی نے الے یار شاہ ڈیم کے حوالے سے رپورٹ طلب کر لی۔اور گرڈ سٹیشن قائم کرنے کے حوالے سے چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ یہ سفارش پہلے ہی کر دی گئی تھی۔سینیٹر کرنل (ر) طاہر حسین مشہدی کی سفارشات کا بھی تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔سیکرٹری خزانہ نے کہا کہ چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والاسینیٹر کرنل (ر) طاہر حسین مشہدی کی سفارشات پر جو تجاویز دینگے انکا جائزہ لے لیا جائیگا۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر طلحہ محمود کی سفارشات کا بھی جائزہ لیا گیا چیئرمین این ایچ اے نے کہا کہ عطاآباد جھیل ٹنل کا منصوبہ مکمل ہو چکا ہے لواری ٹنل مارچ 2017 میں عام ٹریفک کیلئے کھول دی جائے گی پٹن سے رائے کوٹ شاہراہ کا کچھ حصہ رہ گیا تھا وہ اسی سال مکمل ہو جائے گا۔کمیٹی نے فنانس بل 2016-17 کا شق وار جائزہ لینے کا عمل بھی شروع کر دیا ہے اور اس پر تفصیلی بحث کی جائے گی ۔قائمہ کمیٹی کے موجودہ اجلاس میں سینیٹرز مس عائشہ رضا فاروق ، سعود مجید ،محمد طلحہ محمود،کلثوم پروین،مشاہد اللہ خان،نوابزادہ سیف اللہ مگسی،ہدایت اللہ،سردار فتح محمد محمد حسنی، محسن لغاری کے علاوہ سیکرٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود، سیکرٹری پلاننگ ڈویژن ،چیئرمین ایف بی آرکے علاوہ دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی