|

وقتِ اشاعت :   June 11 – 2016

کوئٹہ : صوبائی وزیر صحت میر رحمت صالح بلوچ نے کہا ہے کہ حکومت کوشش کررہی ہے کہ روٹین ایمانزیشن اور ویکسیئن سمیت حفاظتی ٹیکہ جات کے عمل کو موثر طریقے سے مکمل کیا جائے اور لوگوں میں شعور اجاگر کرکے انہیں روٹین ایمانزیشن کی اہمیت سے آگاہی دی جائے چند دنوں میں 3 سو نئے ای پی آئی سینٹر اور ویکسینیٹر کی منظوری وزیراعلیٰ بلوچستان دیں گے جس سے ان مسائل پر قابوپانے میں مدد ملے گی ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز کوئٹہ کے مقامی ہوٹل میں ای پی آئی کے زیراہتمام کوائٹرلی ریوو میٹنگ سے اظہار خیال کرتے ہوئے کیا اس موقع پر گاوی کے کنٹری ڈائریکٹر ڈاکٹر حامد رضا اور ڈاکٹر شاکر سمیت دیگر نے خطاب کیا جبکہ تقریب میں صوبے کے 15 اضلاع کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز نے ای پی آئی کے حوالے سے اپنی اپنی رپورٹ پیش کی اس موقع پر صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ ای پی آئی کی ریوو میٹنگ گاوی ‘ یونیسف سمیت ہمارے دیگر ڈونرز شریک ہیں ہماری کوشش ہے کہ روٹین ایمانزیشن اور حفاظتی ٹیکہ جات کے کورس کی لوگوں میں اہمیت اور آگاہی کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہے تاکہ ہم زیادہ سے لوگوں تک باآسانی رسائی حاصل کرسکیں اور لوگوں کو حفاظتی ٹیکہ جات کے کورس مکمل کروانے کیلئے شعور اجاگر کریں تاکہ ان بیماریوں بچوں کو بچا سکیں انہوں نے کہا کہ ای پی آئی کے زیراہتمام ہم روزانہ کی بنیاد پر اپنی پراپر رپورٹوں کو آن لائن چیک کریں گے جس میں کسی کی بھی کمی یا کوتاہی ہوئی اس ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کیخلاف کارروائی کیونکہ ہر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے روزانہ کی بنیاد پر آن لائن کے ذریعے اپنی پراپر رپورٹنگ دینی ہے تاکہ ہمیں پتہ چل سکے کہ ہم کس حد تک لوگوں میں شعور اجاگر کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں ہم نے اپنی کمزوریوں کو دور کرکے لوگوں میں آگاہی دینی ہے کہ روٹین ایمانزیشن کی کتنی اہمیت ہے موجودہ حکومت نے صحت کے حوالے سے بہت اہم فیصلے کئے اپنی کمزوریوں کو دور کرکے ترجیحی بنیادوں پر صحت کے شعبے کو فوقیت دی ہے تاکہ حفاظتی ٹیکہ جات اور روٹین ایمانزیشن کے عمل کو بھرپور طریقے سے پورا کیا جاسکے ای پی آئی سینٹروں اور ویکسنیٹر کی کمی کی وجہ سے ہم 43 فیصد رزلٹ ایل ایچ وی کے ذریعے حاصل کررہے ہیں ہم بہت جلد 3 سو نئے ای پی آئی سینٹروں اور ویکسینیٹروں کی منظوری وزیراعلیٰ بلوچستان سے لے رہے ہیں جس کے بعد ہمارے بعد سے مسائل حل ہونگے کیونکہ ہم نے ایک معاہدہ سائن کیا ہے جس پر عملدرآمد کرنے سے ہمارے بہت سے مسائل حل ہونگے اختتام پر تقریب کے شرکاء کو افطار ڈنر دیا گیا۔