|

وقتِ اشاعت :   January 28 – 2026

کوئٹہ:  امیر جمعیت علماء اسلام بلوچستان، سینیٹر مولانا عبدالواسع نے مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاریخِ انسانی اس حقیقت پر شاہد ہے کہ طاغوتی اور استعماری قوتیں ہر دور میں اسلام دشمنی کے ایجنڈے پر یکجا ہو کر صف آرا رہی ہیں

دینِ اسلام جو امن، اخوت، رواداری اور انسانیت کی فلاح کا آفاقی پیغامبردار ہے، اسے بدنام کرنے کے لیے دانستہ طور پر دہشت گردی جیسے مکروہ الزامات اس کے مقدس نام کے ساتھ نتھی کیے جاتے رہے ہیں۔

یہ ایک طے شدہ عالمی سازش ہے جس کا مقصد اسلام کی اشاعت، اس کی فکری بالادستی اور امتِ مسلمہ کی نظریاتی وحدت کو کمزور کرنا ہے۔مولانا عبدالواسع نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام دورِ حاضر کے فکری، تہذیبی اور نظریاتی چیلنجز کے تناظر میں نسلِ نو کی بھرپور، بامقصد اور ہمہ جہت رہنمائی کر رہی ہے۔ مدارسِ دینیہ ہوں یا جدید تعلیمی و سماجی فورمز، جمعیت علماء اسلام نوجوانوں کو الحاد، بے دینی اور کفری یلغار سے محفوظ رکھنے کے لیے فکری محاذ پر مضبوط دیوار بنی ہوئی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ٹیکنالوجی میں تیز رفتار جدت نے جہاں دنیا کو قریب کیا ہے وہیں کفری قوتوں کے لیے یہ عمل بھی آسان بنا دیا ہے کہ وہ نت نئے طریقوں سے مسلمانوں کے اذہان میں شکوک و شبہات، فکری انتشار اور نظریاتی کمزوری پیدا کریں، تاکہ بظاہر مضبوط دکھائی دینے والی امتِ مسلمہ کی وحدت کو اندر سے کھوکھلا کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام ان سازشوں کے خلاف نہ صرف نظریاتی میدان میں بلکہ عالمی سیاسی منظرنامے پر بھی پوری قوت کے ساتھ مزاحمت کر رہی ہے۔

مدارسِ دینیہ، جو اسلام کے مضبوط قلعے اور نظریاتی سرحدوں کے محافظ ہیں، آج بھی دینِ حق کے تحفظ اور اسلامی تشخص کی بقا میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔امیر جمعیت نے مزید کہا کہ وطن عزیز پاکستان دو قومی نظریے کی بنیاد پر معرضِ وجود میں آیا، جس کی اساس ہی دینِ اسلام کی سربلندی، اشاعت اور مسلمانوں کو آزادانہ طور پر اسلامی طرزِ حیات اختیار کرنے کا موقع فراہم کرنا تھا۔

پاکستان نے قلیل مدت میں وہ اہداف حاصل کیے جو پوری امتِ مسلمہ کے لیے باعثِ فخر اور وقار ہیں، اور آج عالمِ اسلام کو درپیش ہر بڑے چیلنج میں نظریں پاکستان کی طرف اٹھتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اصل مضبوطی اس کی فکری اور نظریاتی استحکام میں مضمر ہے، اور اسی مقصد کے لیے قائدِ جمعیت اور جمعیت علماء اسلام ہر دور کے تقاضوں کے مطابق اپنی جدوجہد کو نہ صرف ڈھالتے ہیں بلکہ اسے امت کے لیے ڈھال بنا کر پیش کرتے ہیں، تاکہ اسلام، پاکستان اور امتِ مسلمہ کا نظریاتی تشخص ہر سازش کے مقابلے میں محفوظ رہے۔