|

وقتِ اشاعت :   January 29 – 2026

کوئٹہ: نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما بلوچستان اسمبلی میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر میر رحمت صالح بلوچ نے گرینڈ الائنس اور سیاسی رہنمائوں کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پر امن احتجاج ہر شخص کا جمہوری حق ہے جسے طاقت کے ذریعے روکنا صورتحال کو مزید بگاڑنے کے مترادف ہے۔

مدینہ منورہ سے جاری بیان میر رحمت صالح بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان سے ملنے والی اطلاعات باعث تشویش ہیں کہ حکومت گرینڈ الائنس کے احتجاج کو طاقت سے روک رہی ہیسنئیر اساتذہ کو سڑکوں پر پولیس نے گھسیٹا اور انہیں گرفتار کرکے ذہنی طور پر ٹارچر کرنے کے لیے مچھ جیل منتقل کیا۔انہوں نے کہا کہ ملازمین کے احتجاج میں شرکت پر نیشنل پارٹی کے رہنماں ڈاکٹر رمضان ہزارہ، رئیس بشیر احمد، ارباب بلوچ اور بی ایس او کے عبد المالک بلوچ کو بھی گرفتار کیا گیا ہے،

جبکہ اے این پی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی پر بھی حب میں شیلنگ کی گئی یہ غیر جمہوری طرز عمل ہے جسے کسی طور بھی قبول نہیں کیا جاسکتاانہوں نے کہا کہ ملازمین کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں، وہ جائز مطالبہ کے لیے احتجاج کررہے ہیں۔

وفاق اور باقی تینوں صوبوں نے جب ڈی آر اے دیا اور حکومتی کمیٹی نے بھی گرینڈ الائنس کے ساتھ مذاکرات میں اس مطالبہ کو تسلیم کیا تو پھر معاملہ کو کیوں لٹکا کر ملازمین کو احتجاج پر مجبور کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی ملازمین کے ساتھ کھڑی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ ڈی آر اے فوری دے کر گرفتار ملازمین اور سیاسی رہنماں کو رہا اور معطلی کے احکامات واپس لیے جائیں۔