|

وقتِ اشاعت :   January 29 – 2026

 

گوادر کتب میلہ کو بلوچی زبان کے معروف شاعر، محقق، ادیب، ماہر لسانیات اور اولین بلوچی لغت کے خالق سید ظہور شاہ ہاشمی کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔ گوادر کتب میلہ کا افتتاح پاکستان کی معروف سماجی کارکن ڈاکٹر قرت العین بختیاری نے فیتہ کاٹ کر کیا۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایم پی اے گوادر مولانا، پاکستانی سماجی کارکن ڈاکٹر قرت العین بختیاری، وائس چانسلر یونیورسٹی آف گوادر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، آر سی دی کونسل گوادر کے صدر حاجی عبدالغنی نوازش، اردو زبان کی معروف مصنفہ و شاعرہ ڈاکٹر فاطمہ حسن اور آر سی کونسل گوادر کے سرپرست اعلٰی خدابخش ھاشم نے کہا کہ کتاب میلہ کا فروغ سماجی اور معاشرتی تبدیلی کے لئے سنگ میل کی اہمیت رکھتا ہے اس سے ایک طرف نہ صرف علم و شعور اور آگہی کو فروغ ملے گا بل کہ یہ نوجوان نسل کی علمی اور فکری تربیت کا زینہ ثابت ہوگی۔

انہوں نے کتب میلہ کو بلوچی زبان کے معروف شاعر سید ظہور شاہ ہاشمی کے نام منسوب کرنے کے عمل کو سراہا اور کہا کہ سید ظہور شاہ ہاشمی کی بلوچی زبان اور ادب کے لئے گرانقدر خدمات ہیں جس کی بدولت بلوچی زبان کو مہمیز ملی۔

گوادر کتب میلہ کے پہلے روز سیشن منعقد ہوئے۔ پہلا سیشن بارڈر ٹریڈ کے مسائل اور مستقبل کے موضوع پر منعقدہ کیا گیا۔ ڈاکٹر منظور کی نظامت میں اس سیشن کے پینلسٹ میں محمد ایوب، مریانی، شمس الحق کلمتی، وقاص احمد اور جیہند ہوت شامل تھے۔ پینلسٹ نے بارڈر ٹریڈ کے مسائل اور مستقبل پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور زور دیا کہ بارڈر ٹریڈ سے وسیع معاشی امکانات وابستہ ہیں بالخصوص مکران کی معاشی سرگرمیاں بارڈر ٹریڈ سے وابستہ ہیں بارڈر ٹریڈ کو فروغ دینے سے اس خطہ میں معاشی بدحالی کا خاتمہ ممکن ہے اور روزگار کی عمیق رائیں کھل جایئنگی۔

گوادر کتاب میلہ کا دوسرا سیشن ھمایاں کہ سید دیستگ یعنی (جنہوں نے سید کو دیکھا ہے) کے موضوع پر تھا۔ اس سیشن کے پینلسٹ میں ڈاکٹر فضل خالق، ستار میاہ اور سلیمان ہاشم شامل تھے۔ پینلسٹ نے سید ظہور شاہ سے اپنی میلہ ملاپ کے تجربات شیئر کئے اور بتایا کہ ہم نے سید ظہور ہاشمی نے کل وقتی طورپر بلوچی ادب کے فروغ کے لئے فکر مند ہوتے ہوئے دیکھا۔ وہ فراخدلی سے رہنمائی فراہم کرتے اور خوش اسلوبی سے پیش آتے۔ اس سیشن کے نظامت کے فرائض اے آر داد نے ادا کئے۔

تیسرا سیشن بلوچستان کی شاہراہیں پر خواتین کے بنیادی حقوق، ایک عوامی درخواست کے موضوع پر منعقدہ کیا گیا۔

اس سیشن کے پینلسٹ میں ڈاکٹر قرت العین بخیتاری، کوثر سعید اور کلثوم بلوچ شامل تھیں جنہوں نے موضوع کی اہمیت پر کھل کر مباحثہ کیا اور زور دیا کہ بلوچستان کی شاہراوں پر خواتین کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ سیشن کی نظامت جنت حمید کے پاس تھی۔

چوتھے سیشن میں اسحاق رحیم کے مختلف موضوعات پر لکھی گئی کتابوں کی رونمائی کی گئی۔ ستار میاہ، رحیم مھر اور مصنف اسحاق رحیم نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ جب کہ برکھا بلوچ نے نظامت کے فرائض ادا کئے۔

پانچویں سیشن میں خیر جان آرٹ اکیڈمی گوادر کی جانب سے تھیٹر فرعون پیش کیا گیا جس میں سرفراز محمد، جماعت جہانگیر، شاہ نواز شاہ اور شامیز شامو نے فرفارم کیا جسے حاضرین نے بے حد سراہا اور فنکاروں کو زبردست داد دی۔ کتاب میلے کے پہلے دن کے آخری سیشن میں مختصر دورانیے کے فلموں کی نمائش پیش کی گئی۔

کتاب میلہ میں 56 اسٹال لگائے گئے ہیں جس میں مختلف موضوعات پر مبنی کتابوں کے 40 اسٹالز بھی شامل ہیں۔