|

وقتِ اشاعت :   January 30 – 2026

گوادر : پسنی زرین کے مقام پر درجنوں غیرقانونی ٹرالرز کی کھلے عام گجہ فشنگ جاری، ماہیگیروں نے ویڈیو وائرل کردی، پسنی میں دن دیہاڑے سمندری حیات کی بے رحمانہ نسل کشی جاری۔

تفصیلات کے مطانق 30 جنوری بروز جمعہ بلوچستان کے ساحلی شہر پسنی میں گجہ مافیا نے ایک بار پھر اپنی گرفت مضبوط کرلی ہے جہاں دن دیہاڑے غیرقانونی گجہ فشنگ کے ذریعے سمندری حیات کو بے دردی سے تباہ کیا جا رہا ہے۔

پسنی زرین کے حساس سمندری علاقے میں درجنوں ٹرالرز کھلے عام گجہ فشنگ میں مصروف نظر آئے جن کی ویڈیوز مقامی ماہیگیروں نے بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کردی ہیں۔وائرل ویڈیوز میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ بڑے بڑے ٹرالرز ساحل کے قریب غیرقانونی جال بچھا کر چھوٹی مچھلیوں، جھینگوں اور دیگر نایاب سمندری حیات کو جڑ سے ختم کر رہے ہیں۔

ماہیگیروں کے مطابق گجہ فشنگ کی وجہ سے نہ صرف مچھلیوں کی افزائش شدید متاثر ہو رہی ہے بلکہ مقامی ماہی گیر طبقہ فاقہ کشی پر مجبور ہو چکا ہے۔مقامی ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ گجہ فشنگ پر قانونی پابندی کے باوجود ضلعی انتظامیہ، فشریز ڈیپارٹمنٹ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

ان کے مطابق بااثر مافیا کی سرپرستی میں یہ غیرقانونی دھندہ برسوں سے جاری ہے جس کے باعث مقامی چھوٹی کشتیوں والے ماہی گیر روزگار سے محروم ہو رہے ہیں۔ماہی گیروں نے اعلیٰ حکام، وزیراعلیٰ بلوچستان، سیکریٹری فشریز اور ساحلی سیکیورٹی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ پسنی زرین اور ملحقہ سمندری علاقوں میں گجہ فشنگ میں ملوث ٹرالرز کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی جائے اور ذمہ داروں کو گرفتار کیا جائے اور سمندری حیات کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے