|

وقتِ اشاعت :   January 31 – 2026

کوئٹہ: جمال رئسانی نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا بلوچستان میں کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کے بعد ممکنہ جوابی کارروائیوں کو سیکیورٹی فورسز کی بروقت اور مؤثر کارروائی کے ذریعے ناکام بنانا اُن کی مضبوط آپریشنل تیاری اور پیشہ ورانہ صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔

انہوں نے مزید کہا ہر بار کی ناکامیاں اس امر کی غماز ہیں کہ بی ایل اے کی صلاحیت اب عملی تیاری اور منظم تربیت کے بجائے محض بیانیے، پروپیگنڈے اور علامتی حرکات تک محدود ہو چکی ہے۔

انہوں نے مزید کہا  عوام کا سیکیورٹی فورسز پر اعتماد بدستور قائم ہے، اور ایسے شدت پسند گروہ نہ تو بلوچستان کے عوام کی نمائندگی کرتے ہیں اور نہ ہی اُن کی امن، ترقی اور خوشحالی کی خواہشات کے ترجمان ہیں۔ اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ خواتین کو بطور علامتی حربہ استعمال کرنا بھی اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ان گروہوں کی توجہ صلاحیت سے زیادہ تماشے اور دکھاوے پر مرکوز ہو چکی ہے۔

مزید برآں، عام شہریوں کو نشانہ بنانے کی کوششیں، حتیٰ کہ ایک تعلیمی ادارے میں دراندازی کی سازش نے عوام پر یہ حقیقت مزید واضح کر دی ہے کہ یہ عناصر اُس معاشرے کے بھی دشمن ہیں جس کا نام لے کر وہ خود کو حق پر ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

جب ایسے ہتھکنڈے ایک کے بعد ایک ناکام ہو رہے ہیں تو ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ حقیقت اور زیادہ واضح ہوتی جا رہی ہے کہ عوام اُن کے ساتھ کھڑے ہیں جو اُن کی جانوں کے محافظ ہیں، نہ کہ اُن کے ساتھ جو اُنہیں خطرے میں ڈالتے ہیں۔