کوئٹہ: سینئر سیاست دان وسابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے آج کا فیصلہ کل کے تاریخ دان نے نہیں اس سرزمین کے لوگوں نے کرناہے،
بلوچستان کا مسئلہ طبقاتی نہیں قومی ہے، پارلیمانی کوٹہ کیلئے بلوچستان کے قومی حقوق کا سودا لگانے والی سیاسی جماعتوں نے لوگوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی، بلوچستان کے وسائل آئندہ نسلوں کی امانت، قومی ترقی کی ضمانت ہیں، آئندہ مستقبل، ننگ وناموس کا فیصلہ نجی ہوٹل میں کرنے والے نظام کیخلاف صوبے کے لوگ بغاوت کررہے ہیں، مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کیخلاف جدوجہد میں مزید تیزی لاکر اپنی سرزمین کے حقوق کی سیاسی جنگ جاری رکھیں گے۔
یہ بات انہوں نے گزشتہ روز سراوان ہاؤس میں ہم خیال سیاسی رفقاء وکارکنوں کی فکری نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہی،
نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہاکہ بلوچستان کے آج کا فیصلہ کل کے تاریخ دان نے نہیں بلوچستان کے لوگوں نے کرناہے، صوبے کے لوگ اپنے آج اور آئندہ مستقبل پر سنجیدہ ہوکر ذاتی مفاد کو اجتماعی قومی مفاد پر قربان کرکے آئندہ نسلوں کی رہنمائی کرنے میں اپنا کردار اداکرتے ہوئے ایک توانا آواز بنیں۔ انہوں نے کہاکہ محض پارلیمانی کوٹہ کیلئے بلوچستان کے قومی حقوق کا سودا کرنے والی جماعتوں نے صوبے کے لوگوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے جس کے نتیجے میں اس سرزمین کے لوگوں کا سیاسی عمل پر سے اعتماد اٹھ چکا ہے،
انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے آئندہ مستقبل، ننگ وناموس کا فیصلہ نجی ہوٹل میں کرنے والے نظام کیخلاف صوبے کے لوگ بغاوت کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے وسائل اس سرزمین کی آئندہ نسلوں کی امانت اور قومی ترقی کی ضمانت ہیں ماورائے آئین قانون سازی کے ذریعے صوبے کے وسائل کو نیلام کیا جارہاہے،
انہوں نے کہاکہ مائزاینڈ منرلز ایکٹ کیخلاف گزشتہ ایک سال سے جدوجہد کررہے ہیں آئندہ آنے والے دنوں میں اس جدوجہد میں مزید تیزی لائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان کا مسئلہ طبقاتی نہیں قومی ہے، پارلیمنٹ کے باہر اس سرزمین کے حقوق کی سیاسی جنگ لڑرہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں جعلی سیاسی عمل اور نورا کشتی کا مقصد صوبے کے حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانا ہے ایسے میں اس سرزمین کے لوگ شعوری اور فکری جدوجہد کے ذریعے اپنے حقوق کا دفاع کریں۔
Leave a Reply