|

وقتِ اشاعت :   February 9 – 2026

کوئٹہ ؛  غیر سرکاری تنظیم اور محکمہ تعلیم کی رہنماؤں، صحافیوں ڈاکٹر قرۃ العین بختیاری، میڈم زمرد، ظفر بلوچ، میر بہرام بلوچ، ضیاء خان، ظاہر کریم،سمیرہ محبوب،محمد علی سمیت دیگر نے کہا ہے کہ بچوں کو ان کی صلاحیت اور شوق کے مطابق تعلیم دینی چاہئے نہ کہ والدین یا اساتذہ کی ذاتی خواہشات مسلط کی جائے دقیانوسی تعلیمی طریقوں سے نکل کر جدید تقاضوں کے مطابق نظام تعلیم اپناکر خصوصاً بچیوں کی تعلیم کو خصوصی اہمیت دینا موجودہ حالات اور وقت کیلئے ناگزیر ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے میکنزم فار ریشنل چینج (MRC) نے ملالہ فنڈ کے تعاون سے کوئٹہ میں منعقدہ تعلیمی سمٹ بعنوان ”ری امیجن ایجوکیشن“2026 کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر کوئٹہ اور خضدار سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکنان، سیاسی نمائندوں، صحافیوں، سرکاری افسران، وکلا، اساتذہ، طلبہ اور سول سوسائٹی کے دیگر نمائندے بھی شریک تھے۔شرکاء نے بلوچستان میں تعلیم کے موجودہ نظام پر سنجیدگی سے غور کرنے اور عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔اوراس بات پر اتفاق کیا کہ بچوں کو ان کی صلاحیت اور شوق کے مطابق تعلیم دی جانی چاہیے، نہ کہ والدین یا اساتذہ کی ذاتی خواہشات مسلط کی جائیں۔

اس لئے حکام کو پرانے اور دقیانوسی تعلیمی طریقوں سے نکل کر جدید تقاضوں کے مطابق نظام تعلیم اپنانا ہوگا، خصوصاً بچیوں کی تعلیم کو خصوصی اہمیت دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ طلبہ کو صرف نصاب تک محدود رکھنے کی بجائے ہم نصابی سرگرمیوں میں بھی بھرپور مواقع فراہم کیے جائیں۔مقررین نے کہا کہ آنے والے وقت میں بلوچستان میں بچیوں کی تعلیم کو مزید فروغ دیا جا سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *