|

وقتِ اشاعت :   February 10 – 2026

کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان کے اوورسیز ایمپلائمنٹ پروگرام کے تحت منتخب ہونے والے نوجوان میر حسن، محمد فیضان، جمشید اور شیر باز بگٹی نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی اگرچہ صوبے کے نوجوانوں کے لئے سنجیدہ اقدامات اٹھا رہے ہیں

تاہم چند عناصر ووزیر اعلیٰ بلو چستان کے اوورسیز ایمپلائمنٹ منصوبے کو ناکام بنانے پر تلے ہوئے ہیں، بااثر عناصر اور نجی کمپنیوں کی مبینہ بدعنوانی کے باعث بلوچستان کے 30 ہزار سے زائد نوجوانوں کا مستقبل داو ¿ پر لگا دیا گیا ہے۔

یہ بات انہوں نے اوورسیز ایمپلائمنٹ پروگرام کے تحت منتخب ہو نے والے نوجوانوں محمد صدام، عبد الرحمن، ظفر اقبال، حماد علی کے ہمراہ منگل کوکوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کر تے ہوئے کہی۔ متاثرہ نوجوانوں میر حسن نے کہا کہ ترکش کنسلٹنٹ کمپنی 15 کروڑ 30 لاکھ روپے ہڑپ کر چکی ہے جبکہ ریڈیس کمپنی نے ایک سنگین اور شرمناک عمل کرتے ہوئے کوئٹہ کی ایک خاتون کو جرمنی میں ڈانس بار میں کام کرنے کا جعلی ورک پرمٹ فراہم کیا جو نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ صوبے کی خواتین کی تضحیک کے مترادف ہے۔

میر حسن نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان پہلے ہی شدید بے روزگاری اور معاشی مشکلات کا شکار ہیں ایسے میں حکومت بلوچستان کی جانب سے اوورسیز ایمپلائمنٹ پروگرام کا اعلان نوجوانوں کے لئے امید کی ایک بڑی کرن تھا وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی نے اس پروگرام کے تحت 30 ہزار نوجوانوں کو بیرون ملک روزگار فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ بی ٹیوٹا کے ذریعے اس منصوبے کے لئے ترکش کنسلٹنٹ کمپنی، ریڈیس کمپنی اور ھذا کمپنی کا انتخاب کیا گیا ٹینڈر شرائط کے مطابق ہر کمپنی کو 750 بے روزگار نوجوانوں کو بیرون ملک بھجوانا تھا تاہم ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود ایک بھی نوجوان کو بیرون ملک روزگار کے لئے نہیں بھیجا گیا۔میر حسن نے کہا کہ ترکش کنسلٹنٹ کمپنی نے تین تربیتی سیشنز منعقد کئے جن میں 580 نوجوانوں کو منتخب کیا گیا جبکہ اس کمپنی کو حکومت کی جانب سے 15 کروڑ 30 لاکھ روپے کے فنڈز بھی جاری کئے جا چکے ہیں اس کے باوجود ترکش کنسلٹنٹ اور ریڈیس کمپنی ڈیڑھ سال کے طویل عرصے میں ایک بھی نوجوان کو بیرون ملک ملازمت فراہم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ منتخب نوجوانوں کی اصل تعلیمی اسناد ترکش کنسلٹنٹ کمپنی کے پاس موجود ہیں جبکہ نوجوانوں کو جعلی ورک پرمٹس تھما دیئے گئے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ کوئٹہ کی ایک خاتون کو جرمنی میں ڈانس بار میں کام کرنے کا ورک پرمٹ دیا گیا جو بعد ازاں جعلی ثابت ہوا۔

میر حسن نے سوال اٹھایا کہ کیا بلوچستان کی خواتین اب بیرون ملک ڈانس بارز میں کام کرنے کے لئے رہ گئی ہیں؟متاثرہ نوجوانوں نے حکومت بلوچستان سے پرزور مطالبہ کیا کہ ترکش کنسلٹنٹ کمپنی اور ریڈیس کمپنی کے خلاف فوری قانونی کارروائی عمل میں لا تے ہوئے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور بلوچستان کے نوجوانوں کے ساتھ ہونے والی سنگین ناانصافی کا فوری ازالہ کیا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *