|

وقتِ اشاعت :   February 10 – 2026

کوئٹہ؛ کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیر صدارت ڈویژنل ٹاسک فورس برائے ای پی آئی کا چوتھا سہ ماہی جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں صوبائی کوآرڈینیٹر ای پی آئی ڈاکٹر آفتاب کاکڑ، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی، ڈی ایچ او کوئٹہ، ڈپٹی ڈی ایچ او کوئٹہ ڈبلیو ایچ او، یونیسیف، نیشنل اسٹاپ، پی پی ایچ آئی، ایم ایس پی آر سی، ایس اے کے یو جبکہ ڈپٹی کمشنرز چمن، پشین اور قلعہ عبداللہ سمیت دیگر ضلعی افسران نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔اجلاس کے دوران ای پی آئی کی جانب سے کمشنر کوئٹہ ڈویژن کو سہ ماہی کارکردگی رپورٹ پیش کی گئی، جس میں بتایا گیا کہ بچوں کو متعدی امراض سے بچاؤ اور صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

رپورٹ میں بنیادی مراکز صحت میں ادویات، ڈاکٹروں اور ویکسینیٹرز کی دستیابی، ٹیموں کی تربیت، ڈیجیٹل ڈیٹا انٹری، زیرو ڈوز بچوں کی نشاندہی اور کوریج بہتر بنانے سے متعلق اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ نے غیر حاضر اور ناقص کارکردگی دکھانے والے ویکسینیٹرز کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اہلکاروں کو معطل کیا جائے اور کارکردگی بہتر بنانے کے لیے کے پی آئیز پر خصوصی توجہ دی جائے۔

انہوں نے ڈیجیٹل ایپس کی ٹریننگ اور حاضری کی روزانہ بنیاد پر مانیٹرنگ یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے کہا کہ تمام متعلقہ ادارے غیر حاضر ویکسینیٹرز کی فہرستیں آپس میں شیئر کریں تاکہ بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔ انہوں نے چمن اور پشین میں ویسٹ شیڈرز/ڈیلی ریٹ انسینریٹرز کی تنصیب دو دن کے اندر مکمل کرنے کی ہدایت کی تاکہ ہسپتالوں کے فضلات کو محفوظ طریقے سے تلف کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ ڈویژن کے تمام نان فنکشنل بی ایچ یوز کو جلد فعال بنایا جائے، ویکسینیٹرز کی تعیناتی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔

زیرو ڈوز بچوں کی موثر ٹریکنگ کے لیے خصوصی انتظامات کرانے اور کوریج بڑھانے پر زور دیا گیا۔

کمشنر نے غیر حاضر اور فیک انٹری کرنے والے ویکسینیٹرز کے خلاف کارروائی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ ڈویژن میں کے پی آئیز کے حوالے سے مزید بہتری کی اشد ضرورت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال کوئٹہ بلاک میں خسرہ کے 21 کیسز رپورٹ ہوئے جنہیں بروقت علاج سے کنٹرول کر لیا گیا۔

انہوں نے تمام ضلعی صحت افسران کو ہدایت کی کہ وہ باقاعدگی سے بنیادی مراکز صحت کا دورہ کریں،ڈاکٹروں، عملے کی حاضری اور دستیاب سہولیات کا جائزہ لیں۔ویکسینیشن کوریج بڑھانے کے لیے رجسٹرڈ پرائیویٹ کلینکس اور اسکولوں میں فکسڈ سائٹس قائم کرنے اور ای پی آئی مراکز پر آئی آر سروسز کو فعال بنانے کی بھی ہدایت دی گئی۔

کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے زور دیا کہ پولیو اور دیگر متعدی امراض کے خاتمے کے لیے تمام ادارے باہمی تعاون اور اشتراک سے کام کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلی بلوچستان اور چیف سیکرٹری بلوچستان کی خصوصی ہدایات پر ڈویژنل ٹاسک فورس کی کارکردگی کا مسلسل جائزہ لیا جائے گا تاکہ عوام کو صحت کے شعبے میں بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔اجلاس میں گزشتہ انسداد پولیو مہم، ڈیٹا انٹری ایپس، مانیٹرنگ، ایم آئی ایس اور این آئی آر ایس سے متعلق تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *