کوئٹہ: کوئٹہ پولیس نے دو ماہ قبل کوئٹہ کے معروف کاروباری مرکز میں ہونے والی ساڑھے گیارہ کروڑ روپے کی ڈکیتی میں ملوث ملزمان کا سراغ لگاکر اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی)کے ایک افسر سمیت 3ملزمان کو گرفتار کرکے ملزمان سے 1 کروڑ 90 لاکھ روپے سے زائد روپے بھی برآمد کر لیے بلوچستان پولیس کے ایک سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کیس کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق اینٹی ٹیرارزم فورس کے انسپکٹر اورنگزیب کھوکھر سی ٹی ڈی کے اسپیشل آپریشن ونگ میں تعینات تھے جنہیں پیر کو شواہد ملنے کے بعد گرفتار کر لیا گیا
اس کیس میں اس سے قبل پولیس سپاہی محمود اور قلعہ عبداللہ کے رہائشی حبیب کو بھی گرفتار کیا جا چکا ہے پولیس کے مطابق اس کیس میں ایک اور پولیس افسر سمیت کئی دیگر پولیس اہلکاروں کے ملوث ہونے کا بھی شبہ ہے جو واردات کے بعد فرار ہیں اور ان کی گرفتاری کے لیے پولیس چھاپے ماررہی ہے انسپکٹر اورنگزیب کھوکھر کی گرفتاری کے بعد پیر کو جوڈیشل مجسٹریٹ کوئٹہ سیف اللہ ترین کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے 3روزہ ریمانڈ پر انہیں سیریس کرائم انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کر دیاگیا ڈکیتی کی یہ واردات 2ماہ قبل دسمبر 2025 میں تھانہ سٹی کی حدود میں کوئٹہ شہر کے مشہور کاروباری مرکز کٹ پیس مارکیٹ میں ہوئی تھی متاثرہ تاجر اسد اللہ لونی نے تھانہ سٹی میں ایف آئی آر درج کرائی تھی جس میں موقف اختیا رکیا گیا تھا
کہ یکم دسمبر کو ایک تاجر امان اللہ اور کمال الدین سے 11 کروڑ 50لاکھ روپے وصول کر نے کیلئے قندھاری بازار میں نجی بینک میں بلایا اور اسداللہ نے 10 افراد کو نجی بینک بھیجا جو شام 6بجے رقم وصول کرکے دفتر لے آئے تاجر کے بیان کے مطابق گنتی کے بعد ساڑھے گیارہ کروڑ روپے لاکر میں رکھے گئے اور پھر مارکیٹ معمول کے مطابق بند کر دی گئی تو وہ گھر آگئے رات کو مارکیٹ کے صدر نے انہیں اطلاع دی کہ آپ کے شاپنگ سینٹر میں چوری ہوئی ہے
جائے وقوعہ پر پہنچنے کے بعد معلوم ہوا کہ دفتر اور شاپنگ سینٹر کے تالے توڑ دئیے گئے ہیں اور لاکر سے ساڑھے گیارہ کروڑ روپے غائب ہیںمذکورہ چوکیدار نے بیان دیا کہ رات تقریبا ًتین بجے کے قریب 3گاڑیوں میں نامعلوم مسلح افراد آئے جنہوں نے مسجد روڈ کی طرف کے گیٹ کا کالا تالا توڑا اور 5افراد اندر داخل ہو گئے ایک نے انہیں قابو کر کے ایک طرف بٹھا دیا اور باقی 4افراد اندر داخل ہوئے پولیس نے ابتدائی تفتیش کے بعد کیس کو مزید تحقیقات کے لیے سیریس کرائم انویسٹی گیشن وِنگ کے حوالے کردیاایس سی آئی ڈبلیو کے ایک افسر نے میڈیا کو بتایا کہ پولیس نے مارکیٹ کے چوکیدار، متعلقہ تاجروں اور ان کے ملازمین کے بیانات لے لیئے سی سی ٹی وی فوٹیج کا بھی جائزہ لیا گیا اور جدید ٹیکنالوجی کے علاوہ مخبروں کا تعاون بھی حاصل کیا گیا جس سے ملزمان کا سراغ لگا یا سیریس کرائم انویسٹی گیشن ونگ نے تفتیش کے دوران یہ معلوم کیا کہ واردات میں قلعہ عبداللہ کا ایک گینگ ملوث ہے جو بینک سے رقوم نکالنے والے اور حوالہ ہنڈی کا کام کرنے والوں کو لوٹنے میں ملوث رہا ہے۔
اس گینگ نے پولیس افسران کے ساتھ مل کر اس ڈکیتی کی منصوبہ بندی کی تھی۔پولیس ذرائع کے مطابق اس کیس میں مشتبہ قرار دئیے گئے دیگر پولیس اہلکاروں اور ملزمان کی گرفتاریوں کے لیے بھی کوششیں جاری ہیںجنہیں جلد گرفتار کر لیا جائے گا ۔