|

وقتِ اشاعت :   February 13 – 2026

واشنگٹن: امریکی محکمۂ انصاف (ڈی او جے) نے جمعرات کو بتایا کہ دو پاکستانی شہریوں پر امریکا میں 1 کروڑ ڈالر کے ہیلتھ کیئر فراڈ اسکیم میں مبینہ کردار کے الزام میں فردِ جرم عائد کی گئی ہے، جس کا ہدف میڈیکیئر اور نجی انشورنس پروگرام تھے۔

ڈی او جے کے بیان کے مطابق 31 سالہ برہان مرزا اور 48 سالہ کاشف اقبال سمیت دیگر مبینہ ساتھیوں پر ایسے طبی خدمات اور آلات کے جعلی دعوے جمع کرانے کا الزام ہے جو کبھی فراہم ہی نہیں کیے گئے۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ مبینہ اسکیم 2023 اور 2024 کے دوران چلتی رہی اور اس میں نامزد مالکان کے نام پر قائم لیبارٹریز اور پائیدار طبی آلات فراہم کرنے والی کمپنیوں کو استعمال کیا گیا۔

ڈی او جے کے مطابق اس کیس میں تین دیگر مبینہ شریک ملزمان پہلے ہی جرم قبول کر چکے ہیں: ویسٹ شکاگو کے 57 سالہ میر اکبر خان، جنہوں نے جعلی طبی کاروباروں کے لیے نامزد مالکان بھرتی کرنے کا اعتراف کیا؛ شکاگو میں مقیم 47 سالہ بھارتی شہری فاسیور رحمان سید؛ اور پلانو، ٹیکساس میں رہنے والے 43 سالہ پاکستانی شہری نوید رشید۔

بیان کے مطابق تینوں ملزمان سزا سنائے جانے کے منتظر ہیں۔

فردِ جرم کے حوالے سے بیان میں کہا گیا کہ پاکستان میں مقیم پاکستانی شہری برہان مرزا نے مبینہ طور پر افراد، صحت فراہم کنندگان اور انشورنس کمپنیوں کی شناختی معلومات ان کی لاعلمی میں حاصل کیں۔ مرزا نے یہ معلومات نامزد مالکان کی کمپنیوں کی جانب سے میڈیکیئر اور نجی بیمہ کنندگان کو جمع کرائے گئے جھوٹے دعوؤں کی تائید کے لیے استعمال کیں۔

فردِ جرم میں مزید کہا گیا کہ کاشف اقبال، جو کہ ایک اور پاکستانی شہری ہیں، مبینہ جرائم کے وقت لیوون، ٹیکساس میں مقیم تھے۔ بیان میں کہا گیا کہ وہ متعدد پائیدار طبی آلات فراہم کرنے والی کمپنیوں سے منسلک تھے جنہوں نے بیمہ کنندگان کو جعلی دعوے جمع کرائے۔ ان پر فراڈ سے حاصل شدہ رقوم کو منی لانڈرنگ کے ذریعے منتقل کرنے اور امریکا سے پاکستان رقوم کی منتقلی کو مربوط کرنے کا بھی الزام ہے۔

ڈی او جے کے بیان کے مطابق ڈپٹی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش نے کہا، “فراڈ کا خاتمہ اس محکمۂ انصاف کی ترجیح ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ ملزمان نے مبینہ طور پر ایسے پروگرام سے لاکھوں ڈالر چرائے جو امریکی بزرگوں اور معذور افراد کو صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔

ناردرن ڈسٹرکٹ آف الینوائے کے اٹارنی اینڈریو ایس بوتروس نے کہا کہ مبینہ کارروائیاں صرف حکومتی مالی نقصان تک محدود نہیں تھیں۔

انہوں نے کہا، “ملزمان نے صرف ایک حکومتی پروگرام سے چوری نہیں کی بلکہ ان ٹیکس دہندگان سے بھی چوری کی ہے جو اس ملک میں صحت کی سہولت فراہم کرنے کے وعدے کی مالی معاونت کرتے ہیں۔”

فردِ جرم میں مرزا پر ہیلتھ کیئر فراڈ کے 12 اور منی لانڈرنگ کے 5 الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اقبال کو ہیلتھ کیئر فراڈ کے 12، منی لانڈرنگ کے 6 اور امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جھوٹا بیان دینے کے ایک الزام کا سامنا ہے۔ ابتدائی پیشی کی تاریخیں تاحال مقرر نہیں کی گئیں۔

ڈی او جے نے زور دیا کہ فردِ جرم میں صرف الزامات شامل ہیں اور تمام ملزمان عدالت میں جرم ثابت ہونے تک بے گناہ تصور کیے جائیں گے۔