|

وقتِ اشاعت :   February 24 – 2026

بی بی میں شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ  نریندر مودی بدھ سے اسرائیل کے دو روزہ دورے کا آغاز کرنے والے ہیں جس کے دوران فوربز کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان اہم دفاعی معاہدے پر دستخط ہونے کا امکان ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کا اسرائیل کا یہ دوسرا دورہ ہوگا۔

فوربز انڈیا کے مطابق انڈیا اسرائیل کے ساتھ مجموعی طور پر 8.6 بلین ڈالر کے دفاعی معاہدے کرنے جا رہا ہے جن کے تحت سپائس 1000 پرسیژن گائیڈڈ بم، ہوا سے زمین پر مار کرنے والے میزائل، بیلسٹک میزائل اور آئس بریکر میزائل سسٹم خریدے جائیں گے۔

دفاعی ماہر سنجیو سریواستو کا کہنا ہے کہ مودی کے دورے کے دوران اسرائیل کے ساتھ جن اہم دفاعی معاہدوں پر دستخط کیے جا سکتے ہیں، ان میں جدید ڈرونز کی خریداری بھی شامل ہو گی۔

ان معاہدوں کے تحت انڈیا اس بات پر زور دیے سکتا ہے کہ اسرائیلی ڈرون انڈیا میں تیار ہوں۔

دی ہندو اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق انڈیا اسرائیل سے ہیرون ایم کے 2 ڈرونز کی اضافی مقدار خریدنے کا منصوبہ بھی بنا رہا ہے۔

ایئرفورس ٹیکنالوجی ڈاٹ کام کے مطابق یہ ڈرون ایک وقت میں 45 گھنٹے تک مسلسل ہوا میں پرواز کر سکتا ہے۔ یہ ڈرون تقریباً 470 کلو گرام کا پے لوڈ لے جا سکتا ہے اور تقریباً 35,000 فٹ کی بلندی تک اڑنے کے علاوہ ہر قسم کے موسم میں اڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

تاہم اب تک انڈیا کی حکومت کی جانب سے ان معاہدوں کے حوالے سے کوئی باضابطہ معلومات شیئر نہیں کی گئیں۔

اس تحریر میں ہم جانیں گے کہ انڈیا اسرائیل سے یہ ڈرون کیوں خرید رہا ہے، اس کا پاکستان سے حالیہ تنازع سے کیا تعلق ہے اور موجودہ دور میں ڈرون اتنا اہم ہتھیار کیوں بنتا جا رہا ہے۔