کوئٹہ : وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی اپیکس کمیٹی کا اکیسواں اجلاس بدھ کو یہاں منعقد ہوا، جس میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، انسداد دہشت گردی اقدامات، غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی، تعلیمی اصلاحات اور مالی جرائم کے خلاف کارروائیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس میں اعلیٰ سول و عسکری حکام نے شرکت کی صوبائی اپیکس کمیٹی نے پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کے استعمال کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مؤثر دفاعی حکمت عملی اور بروقت جوابی کارروائیوں پر پاک فوج کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
اجلاس میں وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی مدبرانہ قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا گیا
محکمہ داخلہ بلوچستان کی جانب سے بریفنگ دیتے ہوئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات نے بتایا کہ بلوچستان سے اب تک 7 لاکھ 21 ہزار جبکہ مجموعی طور پر صوبے کے راستے تقریباً 10 لاکھ افغان مہاجرین کو واپس بھجوایا جا چکا ہے
غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور مستند اطلاع فراہم کرنے والے کے لیے 50 ہزار روپے انعام مقرر کیا گیا ہے بریفنگ میں یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ پوست کی کاشت میں ملوث عناصر کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے اور 330 افراد کے نام فورتھ شیڈول میں شامل کیے گئے ہیں جبکہ مزید سخت اقدامات کئے جاررہے ہیں
اپیکس کمیٹی کو بتایا گیا کہ ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث 9 افسران کے خلاف کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے برطرفی کے لیے شوکاز نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں اجلاس میں دہشت گردی میں ملوث عناصر کے اہل خانہ کی جانب سے اظہارِ لاتعلقی کو مثبت پیش رفت قرار دیا گیا فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی نے بلوچستان میں حوالہ ہنڈی اور بھتہ خوری کے خلاف مؤثر کارروائیوں پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 24 ملزمان کو گرفتار کیا گیا جبکہ 16 کو سزائیں دلوائی جا چکی ہیں
اور مزید کارروائیاں جاری ہیں اپیکس کمیٹی نے ایف آئی اے بلوچستان کی کارکردگی میں بہتری پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اقدامات مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی اجلاس کو تعلیم کے شعبے میں پیش رفت سے بھی آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ ایک سال کے دوران 2 لاکھ آؤٹ آف اسکول بچوں کو تعلیمی اداروں میں داخل کیا گیا جبکہ بلوچستان کی 12 جامعات میں سے 10 میں بائیو میٹرک حاضری نظام نصب کیا جا چکا ہے اپیکس کمیٹی نے آئندہ مرحلے میں کالجز اور اسکولوں میں بھی بائیو میٹرک نظام کی تنصیب یقینی بنانے کی ہدایت کی وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبائی اپیکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مؤثر ڈیٹرنس کے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اور معاشرے میں ریاستی رٹ مستحکم ہو رہی ہے
انہوں نے زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف ریاستی بیانیے کو مضبوط اور واضح بنانا ناگزیر ہے انہوں نے کہا کہ مزدور کا بچہ مزدور نہیں رہے گا بلکہ تعلیم اور میرٹ کے ذریعے نئی منزلیں حاصل کرے گا وزیر اعلیٰ نے کہا کہ رواں سال پانچ مزدوروں کے بچوں کا پاکستان ایئر فورس میں منتخب ہونا صوبے کے لیے قابل فخر اعزاز ہے انہوں نے کہا کہ الحمدللہ اس وقت 28 ہزار بلوچ نوجوان پاکستان آرمی اور ایف سی میں خدمات انجام دے رہے ہیں جو بلوچستان کی حب الوطنی کا واضح ثبوت ہے وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ امن و استحکام کے قیام کے لیے تمام ریاستی ادارے ایک صفحے پر ہیں
اور پائیدار قیام امن کے لئے کوشاں ہیں انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان میں ترقی، تعلیم اور روزگار کے مواقع بڑھانا ہی پائیدار امن کی ضمانت ہے جبکہ ریاست کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرنے والوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی اور قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اجلاس میں کمانڈر کوئٹہ کور لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم احمد خان ، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان سمیت اعلیٰ سول اور فوجی حکام نے شرکت کی۔
Leave a Reply