کوئٹہ: میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ میں مجموعی طور پر 3 ارب 21 کروڑ 67 لاکھ 30 ہزار روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں، غیر قانونی ادائیگیوں، سرکاری رقوم کی منتقلی اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا انکشاف ہوا ہے۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق بڑے پیمانے پر سرکاری فنڈز اور اثاثے نجی کمپنیوں کو منتقل کیے گئے
جبکہ متعدد مدات میں رقوم سرکاری اکاؤنٹس میں جمع ہی نہیں کرائی گئیں۔
میٹرو پولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کی مالی سال 2024-25 کی آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ میٹرو پولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کے چیف آفیسر نے مالی سال 2024-25 کے دوران 40 کروڑ 66 لاکھ روپے سرکاری فنڈز اور 2 ارب 50 کروڑ 90 لاکھ روپے مالیت کے منقولہ و غیر منقولہ اثاثے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت نجی کمپنی کو منتقل کیے بلوچستان پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اتھارٹی کے ذریعے صفاء کو ئٹہ کو 38 کروڑ 66 لاکھ روپے منتقل کیے گئے،2 ارب 50 کروڑ 90 لاکھ روپے مالیت کی ہیوی مشینری اور ورکشاپس بھی اسی کمپنی کے حوالے کی گئیں تاہم آڈٹ کو معاہدوں اور ریکارڈ تک رسائی نہ دی گئی،
جس کے باعث قانونی جواز کی تصدیق ممکن نہ ہو سکی ساتھ ہی کنٹونمنٹ بورڈ کوئٹہ کو2 کروڑ روپے نامعلوم سرگرمی کے لیے ادا کیے گئے،رپورٹ کے مطابق 3 کروڑ 66 لاکھ 83 ہزار روپے کے سول ورکس اور مرمتی کاموں کو دانستہ طور پر تقسیم کر کے اوپن ٹینڈر اور مجاز اتھارٹی کی منظوری سے گریز کیا گیا۔80 اسٹالز اور پارکنگ سے وصول کیے گئے 1 کروڑ 95 لاکھ روپے سرکاری اکاؤنٹ میں جمع نہ کرائے گئے۔پیدائش، وفات اور شادی سرٹیفکیٹس کی مد میں وصول شدہ 24 لاکھ 45 ہزار روپے بھی اکاؤنٹ میں جمع نہیں ہوئے۔
لیاقت فیملی پارک کی نیلامی 45 لاکھ 60 ہزار روپے میں کی گئی، تاہم بقایا 41 لاکھ 80 ہزار روپے وصول کیے بغیر تین سال کی توسیع دے دی گئی۔
رپورٹ کے مطابق کمرشل جائیدادوں کے کرایوں پر نظرثانی نہ کرنے سے 13 کروڑ 61 لاکھ 17 ہزار روپے کا نقصان ہوا۔لیز ختم ہونے کے باوجود املاک خالی نہ کرانے سے مزید 1 کروڑ 25 لاکھ 95 ہزار روپے واجب الادا رہے۔418 سرکاری رہائشی کوارٹرز میں سے 125 غیر متعلقہ افراد یا نادہندگان کے زیر استعمال پائے گئے، جس سے 3 کروڑ روپے کے واجبات وصول نہ ہو سکے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سرکلر روڈ، بلدیہ پلازہ اور میٹ مارکیٹ کی تین کار پارکنگز Skyclane Infrastructure کو بلوچستان پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اتھارٹی کے ذریعے منتقل کی گئیں مگر 3 کروڑ 50 لاکھ روپے کی پرفارمنس اور بڈ سیکیورٹی حاصل نہیں کی گئی۔رپورٹ کے مطابق ٹھیکیداروں سے 2 کروڑ 76 لاکھ 91 ہزار روپے ٹیکس کم یا بالکل نہیں کاٹا گیا۔مختلف کاموں میں 30 لاکھ 57 ہزار روپے اضافی مقدار کی مد میں ادا کیے گئے۔
ری کرنگ نوعیت کے کاموں میں سالانہ فریم ورک ایگریمنٹ کے بغیر 79 لاکھ 53 ہزار روپے خرچ کیے گئے۔سولر پینلز 148.68 روپے فی واٹ کے حساب سے خریدے گئے جبکہ نظرثانی شدہ نرخ 53.48 روپے فی واٹ تھے، جس سے 31 لاکھ 89 ہزار روپے کی زائد ادائیگی ہوئی۔دو سولر واٹر سپلائی اسکیموں میں تکنیکی معیار سے کم آلات نصب کر کے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ضائع کیے گئے۔
آڈٹ مشاہدات کے مطابق مالی سال 2024-25 میں بے ضابطگیوں، غیر قانونی منتقلیوں، زائد ادائیگیوں، عدم وصولیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کی مجموعی مالیت 3 ارب 21 کروڑ 67 لاکھ 30 ہزار روپے بنتی ہے۔آڈٹ حکام نے ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی، رقوم کی فوری ریکوری، اور تمام پی پی پی معاہدوں کی شفاف جانچ کی سفارش کی ہے۔
Leave a Reply