پاکستان میں ہونے والے ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ مذاکرات کے طویل دور کے باوجود کسی حتمی معاہدے تک پہنچا نہ جا سکا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق یہ مذاکرات گزشتہ ایک سال کا سب سے طویل سیشن تھا جو تقریباً 24 سے 25 گھنٹے جاری رہا۔
ترجمان نے بتایا کہ دونوں فریق بعض معاملات پر اتفاق کے قریب پہنچ گئے تھے، تاہم دو سے تین اہم ایشوز پر اختلاف کے باعث ڈیل نہ ہو سکی، جبکہ دیگر امور پر بھی نقطہ نظر میں فرق موجود ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سفارت کاری ایک مسلسل عمل ہے اور یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے تھی کہ ایک ہی نشست میں کسی بڑے معاہدے تک پہنچا جا سکے گا۔
اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ ایران خطے میں پاکستان سمیت اپنے دوست ممالک کے ساتھ رابطے جاری رکھے گا، اور پاکستان کی حکومت، عوام اور وزیر اعظم شہباز شریف کے کردار کو سراہا۔
دوسری جانب سابق ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو کسی بھی صورت شرائط کے تحت ڈکٹیٹ نہیں کیا جا سکتا، اور امریکا کو اس حقیقت کو سمجھنا ہوگا۔
ادھر ایران کے پارلیمانی اسپیکر اور مذاکرات میں ایرانی وفد کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے کہا کہ مذاکرات سے قبل انہوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ ایران کے پاس مذاکرات کے لیے نیک نیتی اور سنجیدہ ارادہ موجود ہے، تاہم ماضی کی دو جنگوں کے تجربات کے باعث مخالف فریق پر مکمل اعتماد ممکن نہیں۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ مذاکرات کے دوران ایرانی وفد نے مختلف تجاویز پیش کیں، مگر مخالف فریق اس مرحلے پر ایرانی وفد کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ ان کے مطابق امریکا اب ایران کے اصولی مؤقف کو سمجھ چکا ہے اور اب یہ فیصلہ امریکا نے کرنا ہے کہ آیا وہ ایران کا اعتماد حاصل کر سکتا ہے یا نہیں۔
محمد باقر قالیباف نے مزید کہا کہ ایران اپنی قومی خودمختاری اور عوام کے حقوق کے دفاع کے لیے سفارت کاری کے ساتھ ساتھ عسکری طاقت پر بھی یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ جنگی تجربات میں حاصل کامیابیوں سے ایران ایک لمحے کے لیے بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔
انہوں نے مذاکراتی عمل میں سہولت کاری پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے وفد کے اراکین کی کاوشوں کو بھی سراہا اور کہا، “بہت خوب، خدا آپ کو مزید ہمت دے۔”
مجموعی طور پر مذاکرات میں جزوی پیش رفت ضرور ہوئی، تاہم اہم اختلافات کے باعث کوئی حتمی معاہدہ نہ ہو سکا، جبکہ دونوں جانب سے سفارتی رابطے جاری رکھنے کے اشارے دیے گئے ہیں۔
Leave a Reply