|

وقتِ اشاعت :   3 hours پہلے

خضدار: زمباد گاڑی مالکان یونین نے ایک پرہجوم پریس کانفرنس میں اپنے ساتھ مبینہ زیادتیوں، بھتہ خوری اور غیر قانونی اقدامات کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے متعلقہ عناصر کو بے نقاب کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پریس کانفرنس میں یونین رہنماوں نے کہا کہ وزیراعلی بلوچستان کی جانب سے ایرانی تیل کی ترسیل کی اجازت دیتے ہوئے واضح ہدایات جاری کی گئی تھیں کہ کسی بھی ادارے یا فرد کو زمباد گاڑیوں سے بھتہ لینے کی اجازت نہیں ہوگی۔

ان احکامات کے بعد تیل کی فراہمی کے نظام میں بہتری آئی اور مختلف علاقوں بالخصوص جھل مگسی میں قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی جس سے عوام کو ریلیف ملا۔

تاہم یونین کے مطابق جھل مگسی میں بھتہ خوری کا سلسلہ تاحال جاری ہے بلکہ اس میں اضافہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سرفراز شاہ نامی شخص، جسے انہوں نے مبینہ بین الصوبائی سمگلر قرار دیا، نہ صرف فی گاڑی 20 ہزار روپے بھتہ طلب کر رہا ہے بلکہ اس کے مسلح افراد زمباد گاڑیوں کو روک کر ایف سی کے حوالے بھی کر دیتے ہیں۔

یونین نمائندوں کے مطابق ایک ہفتہ قبل ان کی آٹھ گاڑیوں کو روک کر یرغمال بنایا گیا اور ہر گاڑی سے بھتہ طلب کیا گیا۔ انکار پر مبینہ طور پر گاڑیوں کو ایف سی کیمپ منتقل کیا گیا جہاں سے 45 ہزار لیٹر سے زائد تیل زبردستی نکال کر دوسری گاڑیوں میں منتقل کیا گیا اور مختلف اضلاع میں فروخت کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ بعد ازاں اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری اور میر یاسر احمد مینگل کی کوششوں سے گاڑیوں کو رہائی ملی، جس پر یونین نے ان کا شکریہ ادا کیا۔

اہم سوالات اور مطالباتیونین رہنماں نے حکومت سے سوال اٹھایا کہ اگر تیل غیر قانونی تھا تو اسے کسٹمز یا ضلعی انتظامیہ کے حوالے کرنے کے بجائے نجی افراد کے حوالے کیوں کیا گیا؟

اور اگر ترسیل غیر قانونی ہے تو بعض عناصر کو بڑے پیمانے پر تیل کی نقل و حمل کی اجازت کیسے دی جا رہی ہے؟انہوں نے کہا کہ وہ غریب محنت کش ہیں جو اپنے اہل خانہ کا پیٹ پالنے کے لیے یہ کام کرتے ہیں، جبکہ چند عناصر نے اسے منظم مافیا کی شکل دے دی ہے، جس کے باعث خضدار اور جھل مگسی میں تیل مہنگا فروخت ہو رہا ہے۔

آخر میں یونین نے حکومت بلوچستان اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور بھتہ خوری میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، بصورت دیگر وہ احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے پر مجبور ہوں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *