کوئٹہ: وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصر اللہ بلوچ اور حوران بلوچ نے بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (پجار) کے مرکزی سینئر وائس چیئرمین بابل ملک بلوچ کی مبینہ جبری گمشدگی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تا حال ان کی گرفتاری کی وجوہات کا علم نہیں ان سمیت تمام لاپتہ افراد کو فوری طور پر منظر عام پر لایا جائے اگر کسی پر کوئی الزام ہے تو انہیں عدالت میں پیش کرکے قانونی تقاضے پورے کئے جائیں۔
اگر نہیں رہا نہ کیا گیا تو ہم احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے جس سے حالات کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے عدالت روڈ پر قائم کیمپ میں پریس کانفرنس کے دوران کرتے ہوئے کیا اس موقع پر دیگر بھی موجود تھے۔
انہوں نے کہا کہ بابل ملک بلوچ ایک پر امن سیاسی و طلباء رہنماء ہے جس نے جمہوری انداز میں طلباء کے حقوق کے لئے آواز بلند کی ہے ان کی گرفتاری جمہوری و پر امن آواز کو دبانے کی کوشش ہے۔
رواں سال کے دوران اب تک 200 سے زائد بلوچ افراد کو بلوچستان کے مختلف علاقوں سمیت ملک کے دیگر صوبوں کراچی اور پنجاب سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا جن میں خواتین بھی شامل ہیں انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ متعدد کیسز میں اطلاعات ہیں کہ حراست میں لئے گئے افراد کو ماورائے عدالت قتل کرکے ان کی لاشیں ویران علاقوں میں پھینک دی گئی ہیں جوکہ نہایت افسوسناک اور تشویشناک عمل ہے۔
ان سنگین خلاف ورزیوں پر حکومت نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی جس کے باعث یہ سلسلہ تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے جس کو صرف اور صرف سیاسی و جمہوری طریقے سے ہی حل کیا جاسکتا ہے طاقت اور ماورائے قانون اقدامات مسائل کو گھمبیر بناتے ہوئے نفرت میں اضافہ کررہے ہیں۔
جس سے عوام اور نوجوان کا ریاستی اداروں پر اعتماد اٹھ رہا ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں ، طلباء تنظیموں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ جبری گمشدگیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے خلاف مشترکہ جدوجہد کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت اقدامات کا خاتمہ یقینی بناکر بلوچستان کے وسائل پر مقامی آبادی کے حق کو تسلیم کرکے اہل بلوچستان کے بنیادی اور آئینی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
Leave a Reply