کوئٹہ : کوئٹہ میں بلوچستان یوتھ ریسورس سینٹر، یوتھ ڈائریکٹوریٹ کے مرکزی ہال میں ڈیجیٹل لٹریسی کے موضوع پر ایک اہم آگاہی سیمینار منعقد ہوا، جس میں معلومات تک رسائی کے قانون (رائٹ ٹو انفارمیشن) کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈیجیٹل تناظر میں سمجھنے اور اس کے مؤثر استعمال پر زور دیا گیا۔ سیمینار کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو اس بات سے آگاہ کرنا تھا کہ موجودہ دور میں شفافیت، احتساب اور بروقت معلومات کے حصول کے لیے پیپر لیس اور ڈیجیٹل نظام کی طرف منتقلی ناگزیر ہوچکی ہے، اور اس ضمن میں ڈیجیٹل ٹولز کا استعمال کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
سیمینار میں مقررین اور شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ نوجوان کسی بھی معاشرے کی حقیقی طاقت ہوتے ہیں، اور باخبر و باشعور یوتھ ہی ملک و قوم کی ترقی کی ضمانت فراہم کرسکتی ہے۔ تاہم اس امر پر تشویش کا اظہار بھی کیا گیا کہ نوجوانوں کی صلاحیتوں اور ڈیجیٹل مہارتوں سے بھرپور استفادہ نہیں کیا جارہا، جس کے باعث ان کی توانائیاں اکثر غیر تعمیری سرگرمیوں میں ضائع ہوجاتی ہیں۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوانوں کی مناسب تربیت اور رہنمائی کے ذریعے انہیں رائٹ ٹو انفارمیشن جیسے اہم قانون کے مثبت اور مؤثر استعمال کی طرف راغب کیا جائے۔
سیمینار کا انعقاد مقامی تنظیم ایڈ بلوچستان نے کیا، جس کی مالی معاونت نیشنل اینڈومنٹ فار ڈیموکرسی نے فراہم کی، جبکہ انتظامی امور میں یوتھ پبلک اکاؤنٹیبلٹی فورم کے رضاکار نوجوانوں نے بھرپور کردار ادا کیا۔ یوتھ ڈیپارٹمنٹ نے مکمل تعاون فراہم کیا جبکہ بلوچستان یوتھ ریسورس سینٹر نے ہال کی فراہمی کے ذریعے اس اہم سرگرمی میں حصہ ڈالا۔
سیمینار کے مہمان خصوصی سیکرٹری یوتھ اینڈ اسپورٹس ڈیپارٹمنٹ درا بلوچ تھے۔ دیگر اہم مقررین میں ڈائریکٹر یوتھ ڈیپارٹمنٹ الیاس بلوچ، ڈائریکٹر اسپورٹس ڈاکٹر یاسر بازئی، انفارمیشن کمشنر بلوچستان عبدالشکور، ایڈ بلوچستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عادل جہانگیر، سینئر صحافی میر بہرام بلوچ سمیت دیگر نمایاں شخصیات شامل تھیں۔
اپنے خطاب میں سیکرٹری یوتھ اینڈ اسپورٹس درا بلوچ نے ایڈ بلوچستان کی جانب سے نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور رائٹ ٹو انفارمیشن کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مؤثر قانون ہے، تاہم اس کا استعمال ذمہ داری اور مثبت نیت کے ساتھ ہونا چاہیے تاکہ کسی کی تضحیک کے بجائے اجتماعی ترقی کو فروغ دیا جاسکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق نوجوانوں کے لیے پالیسی سازی اور اس پر عملدرآمد جاری ہے، جس کے تحت نوجوانوں کے لیے مختلف مواقع پیدا کیے جارہے ہیں۔
ایڈ بلوچستان کے سینئر مینیجر میر بہرام لہڑی نے ایک جامع پریزنٹیشن پیش کرتے ہوئے 2015 سے 2026 تک رائٹ ٹو انفارمیشن کے حوالے سے ہونے والی جدوجہد اور پیش رفت کو تفصیل سے بیان کیا۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر عادل جہانگیر نے انفارمیشن کمیشن کے قیام، کمشنرز اور انفارمیشن آفیسرز کی تعیناتی کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔
سینئر صحافی میر بہرام بلوچ نے اپنے خطاب میں مس انفارمیشن اور ڈس انفارمیشن کے خطرات پر روشنی ڈالی اور نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کی تلقین کی۔ انفارمیشن کمشنر عبدالشکور نے رائٹ ٹو انفارمیشن قانون پر عملدرآمد میں درپیش چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے اسے ایک مضبوط قانون قرار دیا، تاہم اس کے محتاط استعمال کی ضرورت پر زور دیا۔
ڈیولپمنٹ سیکٹر کے ماہر وسیم باری نے ڈیجیٹل ٹولز کے مؤثر استعمال پر ایک معلوماتی پریزنٹیشن دی، جبکہ یوتھ پبلک اکاؤنٹیبلٹی فورم کے ممبر زبیر احمد نے بین الاقوامی بہترین مثالیں پیش کرتے ہوئے ڈیجیٹل نظام کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ ناصر حسین اور ان کی ٹیم نے سوال و جواب کا سیشن منعقد کیا، جبکہ حسام الدین نے ایک انٹرایکٹو سیشن کے ذریعے شرکاء کو بھرپور انداز میں شامل کیا۔ بلوچستان یوتھ ریسورس سینٹر کی کوآرڈینیٹر شاہدہ بتول نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ درست معلومات پر یقین رکھیں اور ذمہ دار شہری کا کردار ادا کریں۔
سیمینار میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی، جن میں مشتاق بلوچ، محمد سمیع، نصراللہ، احد آغا، سمیرا ناز، میر بہرام لہڑی، وسیم باری، اسماعیل زیب، عنایت سرپرہ، محمد شعیب سرپرہ، رخسانہ عبدالحق، صادق سمالانی، ندیم محمد حسنی، فضاء کنول، جمیلہ، ناصر حسین، جمیل احمد، شوکت مری، عجب خان، حسام الدین، زبیر احمد، ضیاء بنگلزئی، آر جے عاصم، اشفاق مینگل، رفعت، نیلم، ندیم اکبر سمیت دیگر شامل تھے۔
سیمینار کے اختتام پر شرکاء کے ساتھ ایک تفصیلی سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد کیا گیا، جس میں نوجوانوں نے بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کیا اور ڈیجیٹل لٹریسی اور رائٹ ٹو انفارمیشن کے حوالے سے اپنے سوالات پیش کیے۔ مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایسے اقدامات کے ذریعے نہ صرف نوجوانوں کی صلاحیتوں کو مثبت سمت دی جاسکتی ہے بلکہ ایک شفاف، جوابدہ اور ڈیجیٹل معاشرے کی بنیاد بھی رکھی جاسکتی ہے۔
Leave a Reply