امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک ایران جوہری پروگرام سے متعلق ایسا معاہدہ نہیں کرتا جس میں امریکا کے خدشات دور کیے جائیں اس وقت تک ایران پر بحری ناکہ بندی برقرار رکھی جائے گی۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے ایران کی اس تجویز کو مسترد کر دیا جس میں پہلے آبنائے ہرمز کھولنے اور ناکہ بندی ختم کرنے جبکہ جوہری مذاکرات بعد میں کرنے کی بات کی گئی تھی۔
امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے خلاف ’مختصر اور طاقتور‘ حملوں کا منصوبہ تیار کر لیا ہے تاکہ مذاکرات میں جاری تعطل کو ختم کیا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق ان ممکنہ حملوں میں ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے جس کے بعد امریکا ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے اور زیادہ لچک دکھانے پر زور دے گا۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ ناکہ بندی کو بمباری کے مقابلے میں ’کسی حد تک زیادہ مؤثر‘ سمجھتے ہیں، جبکہ ذرائع کے مطابق منگل کی رات تک انہوں نے کسی فوجی کارروائی کا حکم نہیں دیا۔
اطلاعات کے مطابق اس وقت ٹرمپ ناکہ بندی کوایران پر دباؤ کا بنیادی ذریعہ سمجھتے ہیں تاہم اگر ایران نے مؤقف نہ بدلا تو وہ فوجی کارروائی پر بھی غور کر سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے تاکہ ناکہ بندی ختم ہو سکے۔
ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے کہا کہ وہ معاملہ حل کرنا چاہتے ہیں، وہ نہیں چاہتے کہ میں ناکہ بندی جاری رکھوں۔
میں اسے ختم نہیں کرنا چاہتا کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ ان کے پاس جوہری ہتھیار ہوں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے تیل کے ذخائر اور پائپ لائنز پھٹنے کے قریب ہیں کیونکہ ناکہ بندی کے باعث وہ تیل برآمد نہیں کر پا رہا، تاہم بعض ماہرین اس دعوے سے اتفاق نہیں کرتے۔ دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا کہنا ہے کہ خلیج فارس کا مستقبل امریکا کی موجودگی کے بغیر روشن ہوگا، تہران اور خلیجی ہمسایہ ممالک کا مقدر مشترکہ ہے، خطے میں غیر ملکی عناصر کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ ریاستی میڈیا کی جانب سے جاری بیان میں ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ آج خطے میں دنیا کی سب سے بڑی مہم اور جارحیت کے 2 ماہ بعد اور امریکا کی اپنے منصوبے میں شرمناک ناکامی کے بعد خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں ایک نیا باب ابھر رہا ہے۔
یہ پیغام ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی آئی آر این اے نے نیشنل پرشین گلف ڈے کے موقع پر شائع کیا جو 1622 میں آبنائے ہرمز سے پرتگالی افواج کے انخلا کی یاد میں منایا جاتا ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ آبنائے ہرمز صدیوں سے ‘‘بہت سے شیطانوں کی لالچ’’ کا مرکز رہی ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر کا کہنا تھا کہ فروری کے آخر میں شروع ہونے والی امریکا اسرائیل جنگ کے بعد ایرانی عوام نے اپنی آنکھوں سے ایرانی افواج کی ثابت قدمی، چوکسی اور بہادرانہ جدوجہد کے ‘‘خوبصورت مظاہر’’ دیکھے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ خلیج فارس کا روشن مستقبل ‘‘امریکا کے بغیر’’ ہوگا ، خطے میں غیر ملکی عناصر کے لیے کوئی جگہ نہیں۔
خطے کے عوام کی ترقی، سکون اور خوشحالی کے لیے وقف ہوگا۔
ایران کے سپریم لیڈر نے خطے میں عدمِ تحفظ کا ذمہ دار امریکی فوجی موجودگی کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں اور اس کے بعد کی کارروائیوں نے خطے کو غیر محفوظ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ خلیج فارس کے ممالک میں امریکی موجودگی اور ان کے اڈے خطے میں عدمِ تحفظ کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔
امریکا کے کٹھ پتلی اڈوں میں خود اپنی سلامتی کی صلاحیت نہیں تو وہ اپنے حامیوں کو کیا تحفظ فراہم کریں گے۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ایران اپنی جوہری اور میزائل صلاحیتوں کا سختی سے دفاع کرے گا جو امریکی صدر کی جانب سے انہیں ختم کرنے کی خواہش کے ردِعمل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام ان صلاحیتوں کو قومی سرمایہ سمجھتے ہیں اور ان کی حفاظت ایسے کریں گے جیسے اپنی پانی، زمین اور فضائی سرحدوں کی کرتے ہیں۔
بہرحال امریکہ اور ایران کے درمیان سخت بیان بازی سے یہ تاثر زیادہ گہرا ہوتا جارہا ہے کہ کسی بھی وقت جنگ دوبارہ چھڑ سکتی ہے۔
یہ اطلاعات بھی اب سامنے آرہی ہیں کہ امریکہ ایران پر مختصر مگر شدید فوجی کارروائی ،آبنائے ہرمز میں بحری کنٹرول مضبوط کرنے اور ایران کے افزودہ یورینیم ذخائر کو نشانہ بنانے کے لیے اسپیشل فورسز کے ممکنہ خفیہ مشنز کی تیاری کررہا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ اس وقت ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے بحری ناکہ بندی کو ترجیح دے رہے ہیں تاکہ تہران کو مذاکرات میں نرمی پر مجبور کیا جا سکے۔
اگر ایران کی جانب سے مطلوبہ رعایتیں نہ دی گئیں تو امریکا مزید سخت فوجی اقدامات پر بھی غور کر سکتا ہے۔
یہ تمام آپشنز خطے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں تیار کیے جا رہے ہیں جہاں ایک جانب سفارتی کوششیں جاری ہیں تو دوسری جانب فوجی تیاریوں میں بھی تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی عسکری سرگرمی عالمی تیل سپلائی اور بین الاقوامی تجارت پر بڑے اثرات مرتب کرنے کے ساتھ خطے کو ایک بڑی جنگ کی طرف دھکیلے گا جس سے بڑے بحرانات اور چیلنجز پیدا ہونگے جس کے خوفناک نتائج معیشت اور امن پر پڑینگے۔
امریکہ ایران تنازع، جنگ کے بڑھتے امکانات، عالمی امن اور معیشت پر خطرناک اثرات!
![]()
وقتِ اشاعت : 3 hours پہلے
Leave a Reply