|

وقتِ اشاعت :   3 hours پہلے

تربت: نیشنل پارٹی کیچ کے زیرِ اہتمام یکم مئی یومِ مزدور کے موقع پر ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی، جس کے مہمانِ خصوصی نیشنل پارٹی کے قائد اور سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور سینیٹر جان محمد بلیدی تھے، جبکہ صدارت ضلعی صدر یونس جاوید نے کی۔

اسٹیج سیکرٹری کے فرائض ضلعی جنرل سیکرٹری سرتاج گچکی نے انجام دیئے۔نیشنل پارٹی کے قائد سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اپنے خطاب میں کہا کہ یومِ مزدور منانے کا اصل مقصد ظلم، ناانصافی اور استحصال کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں دو بڑے انقلابات، بالشویک انقلاب اور چینی انقلاب، مزدور طبقے کی جدوجہد کے نتیجے میں برپا ہوئے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محنت کش طبقے اور لیبر یونینوں سے احتجاج کا حق چھینا جا رہا ہے، جبکہ ظلم کے خلاف آواز اٹھانا ہر باشعور انسان کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم سیاسی لوگ ہیں اور عدم تشدد کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں، مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ الیکشن لڑیں تو بھی عذاب اور نہ لڑیں تو بھی عذاب۔ انہوں نے بی ایس او کے سینئر نائب صدر بابل ملک اور تجابان کی رہائشی خدیجہ پیر محمد کی گرفتاری اور جبری گمشدگی جیسے واقعات پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس جنگ میں بلوچ فرزند مارے جا رہے ہیں۔

نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما سینیٹر جان محمد بلیدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج سے تقریباً 140 سال قبل مزدوروں نے اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کا آغاز کیا تھا، جو آج بھی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے تحت مزدوروں کو تمام حقوق حاصل ہیں اور پاکستان نے بین الاقوامی مزدور قوانین کو بھی تسلیم کیا ہے، مگر عملاً مزدور آج بھی ظلم، استحصال اور محرومی کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ کم از کم تنخواہ 37 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے، مگر اس قلیل رقم سے ایک خاندان کا پورا مہینہ گزارنا ممکن نہیں، جبکہ نجی شعبے میں اس سے بھی کم اجرت دی جا رہی ہے۔

انہوں نے حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 1234 ارب روپے صرف تیل پر لیوی کی مد میں وصول کیے جا رہے ہیں، جبکہ ایران میں جنگ کے باوجود تیل کی قیمت کم کی گئی اور یہاں بڑھا دی گئی۔انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز کو سالانہ 3000 ارب روپے دیے جا رہے ہیں، حالانکہ ان سے بجلی بھی پیدا نہیں ہو رہی۔

این ایف سی، سیندک اور صوبائی وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم پر بھی انہوں نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تقسیمِ دولت اور تقسیمِ اختیار میں ناانصافی ملک میں بے چینی کی بنیادی وجہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ بارڈر سے 25 سے 30 لاکھ لوگوں کے چولہے جلتے ہیں مگر بارڈر بند کرکے لاکھوں خاندانوں کو فاقوں پر مجبور کر دیا گیا ہے۔نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما جسٹس (ر) شکیل احمد بلوچ نے کہا کہ مزدوروں کے بنیادی مسائل میں اوقاتِ کار، مناسب اجرت، ریٹائرمنٹ کے بعد حقوق کا تحفظ اور ہر شہری کو سوشل سیکیورٹی کی فراہمی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ خوش آئند امر ہے کہ تمام یونینز اس پروگرام میں شریک ہیں، اور نیشنل پارٹی ملازمین کے تمام مطالبات بشمول ڈی آر اے کی بھرپور حمایت کرتی ہے۔بلوچستان گرینڈ الائنس کے نمائندہ اختر ایاز نے کہا کہ یومِ مزدور دراصل مزدور یونینز اور ملازم تنظیموں کو منانا چاہیے تھا، تاہم نیشنل پارٹی نے تمام طبقات کو یکجا کرکے اپنی مزدور دوست پالیسی کے تسلسل کو برقرار رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی ملازم دشمن پالیسیوں اور ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس کی عدم ادائیگی کے باعث ملازمین میں شدید تشویش پائی جاتی ہے، ڈی آر اے کے مسئلہ پر نیشنل پارٹی نے اسمبلی میں بھرپور ساتھ دیا ہے اور ہمارے مطالبات کی حمایت کی ہے جس پر ان کے شکر گزار ہیں۔

انجمن تاجران تربت کے رہنما اور میونسپل کارپوریشن تربت کے لیبر کونسلر اعجاز علی محمد جوسکی نے کہا کہ مزدور معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور کوئی بھی شعبہ مزدور کے بغیر نہیں چل سکتا۔

انہوں نے کہا کہ مہنگائی نے مزدور کو ایسے دلدل میں دھکیل دیا ہے کہ اب اس میں احتجاج کرنے کی سکت بھی باقی نہیں رہی۔مکران ہائی کورٹ بار کے انفارمیشن سیکرٹری مجید دشتی ایڈووکیٹ نے شام کی بسوں کی بندش کو مزدوروں کے لیے ایک بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نہ صرف مسافر مشکلات کا شکار ہیں بلکہ ٹرانسپورٹ سے وابستہ سینکڑوں مزدور بھی اپنے حقِ روزگار سے محروم ہو رہے ہیں۔نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما واجہ بجار بلوچ نے کہا کہ مزدور حقوق کی جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک استحصالی طبقے کی بالادستی کا خاتمہ نہیں ہوتا۔

انہوں نے مزدوروں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔تقریب سے واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک لیبر یونین کے نمائندہ آصف فقیر، پاکستان پیرا میڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن رجسٹرڈ 2076 کے نمائندہ ڈاکٹر سبزل خان کولواہی، اور بی ایس او پجار کے رہنما نوید تاج نے بھی خطاب کیا۔ضلعی صدر یونس جاوید نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔

پروگرام میں نیشنل پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے رکن اور میئر تربت بلخ شیر قاضی، پاکستان پیرا میڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن رجسٹرڈ 2076 کے صوبائی نائب صدر باقی بلوچ، آل پارٹیز کیچ کے ڈپٹی کنوینر فدا جان بلیدی، تحصیل تربت کے صدر طارق بابل سمیت مختلف سیاسی، سماجی، مزدور اور ملازم تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *