تربت : صوبائی پارلیمانی سیکرٹری برائے انرجی میر اصغر رند نے میرانی ڈیم کے حقیقی اور جائز متاثرین کے ساتھ ہونے والی سنگین ناانصافیوں پر شدید برہمی اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاملہ محض غفلت نہیں بلکہ کھلی بدعنوانی اور ظلم کی بدترین مثال ہے۔
انہوں نے کہا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ میرانی ڈیم کے اصل متاثرین آج بھی اپنے بنیادی حق جائز معاوضوں سے محروم ہیں، جبکہ بااثر افراد نے ملی بھگت کے ذریعے ایک ہی نام پر بار بار معاوضے وصول کرکے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا۔ انہوں نے سخت الفاظ میں کہا کہ ایک طرف وہ خاندان ہیں جنہوں نے ناجائز طریقوں سے کروڑوں روپے بٹور لیے، جبکہ دوسری جانب وہ مظلوم اور حقیقی متاثرین ہیں جنہیں آج تک ایک روپیہ تک نہیں دیا گیا۔
یہ کھلا تضاد اور ناانصافی کسی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت کی انتظامیہ سے لے کر موجودہ ذمہ داران تک جو بھی اس میں ملوث پایا گیا ان سب کا لازمی احتساب ہونا چاہیے۔ میر اصغر رند نے خبردار کیا کہ اس سنگین معاملے کو وہ ہر فورم پر اٹھائیں گے ، صوبائی اسمبلی کے فلور پر بھرپور انداز میں پیش کریں گے اور اعلیٰ حکام کے سامنے بھی رکھیں گے تاکہ ذمہ داروں کو بے نقاب کیا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جن لوگوں کے معاوضے غیر قانونی طور پر بڑھا چڑھا کر کروڑوں روپے تک پہنچائے گئے اور فوری ادا بھی کیے گئے،
ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہونی چاہیے، جبکہ وہ حقیقی متاثرین جن کے معاوضے معمولی رقم ہزاروں روپے تک محدود ہیں، آج بھی دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ اس ناانصافی کا مکمل خاتمہ کیا جائے، تمام ریکارڈ کی شفاف انکوائری کرائی جائے، لوٹی گئی رقم واپس لی جائے اور اصل حقداروں کو ان کا جائز حق فوری طور پر ادا کیا جائے۔
Leave a Reply