کوئٹہ : محکمہ تعلیم بلوچستان دو برس گزرنے کے باوجود 100 سے زائد سرکاری اسکولوں کا سراغ لگانے میں ناکام رہا ۔ بلوچستان کے سیکرٹری تعلیم ڈاکٹرعمر بابر نے آئی این پی سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ انہیں کوئٹہ شہر میں 100 سے زائد سرکاری اسکولوں کی تصدیق میں ناکامی کا سامنا ہے تاہم محکمہ تعلیم آئندہ چھ ماہ کے اندر اسکولز اور ٹیچرز کی تصدیق کا عمل مکمل کرلے گا۔بلوچستان کے محکمہ تعلیم کے اعداد و شمار کے مطابق کوئٹہ میں سرکاری اسکولوں کی تعداد 572 ہے جن میں سے 400 اسکولوں کی تصدیق ہوچکی ہے لیکن 100 سے زائد اسکولز اب بھی غائب ہیں جن کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔سیکریٹری تعلیم نے کہاکہ ہم ان اسکولوں کے فنڈز روک دیں گے جن کی تصدیق نہیں ہوسکے گی جبکہ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے 32 اضلاع میں غیر تصدیق شدہ سرکاری اسکولوں کی حتمی تعداد کے بارے میں وہ فی الحال کچھ نہیں بتاسکتے کیوں کہ تصدیق کا عمل ابھی جاری ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ صوبے میں رجسٹرڈ سرکاری ٹیچرز کی تعداد60ہزار کے قریب ہے جن میں سے 2 ہزار اساتذہ کی تصدیق بھی نہیں ہوسکی ہے جبکہ انہیں تنخواہیں اور مراعات مسلسل مل رہی ہیں۔واضح رہے کہ بلوچستان میں دوسال سے اساتذہ اور اسکولوں کی تصدیق اور جانچ پڑتال کا عمل جاری ہے، صوبے میں اب تک بیس ہزار سے زائد اساتذہ محکمہ تعلیم کے ریکارڈ کے مطابق غائب ہیں لیکین اس کے باوجود ماہانہ کروڑوں روپے تنخواہیں ادا کی جارہی ہیں۔سیکریٹری تعلیم کا کہنا ہے کہ صوبے کے سرکاری اسکولوں میں زیرتعلیم طلبا کی تعداد 12لاکھ سے زائد ہے اور اب بھی نو لاکھ بچے ایسے ہیں جو اسکول نہیں جاتے۔ماہرین تعلیم کا کہنا ہے اگر کوئٹہ شہر میں 100 اسکول صرف کاغزوں میں موجود ہیں توصوبے کے دیگر 31 اضلاع میں ہزاروں گھوسٹ سرکاری اسکولز ہونے کا خدشہ ہے۔