|

وقتِ اشاعت :   July 25 – 2016

تہران: ایران نے غیر قانونی آلات کے خلاف شروع کیے گئے ایک بڑے کریک ڈاؤن کے دوران ایک لاکھ سیٹلائٹ ڈش اور ریسیورز کو تباہ کردیا، جن کے حوالے سے حکام کا کہنا ہے کہ یہ اخلاقی طور پر نقصان دہ ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سیٹلائٹ ڈشوں کو دارالحکومت تہران میں ایران کی باسیج ملیشیاء کے سربراہ جنرل محمد رضا ناغدی کی موجودگی میں تباہ کیا گیا، جنھوں نے ملک میں سیٹلائٹ ٹیلی ویژن کے اثرات کے حوالے سے خبردار کیا تھا۔ باسیج نیوز کے مطابق، ‘سچائی یہ ہے کہ زیادہ تر سیٹلائٹ چینلز معاشرے کی اخلاقی اقدار اور ثقافت کو نقصان پہنچارہے ہیں’۔ ناغدی کا کہنا تھا کہ ‘ان چینلز کی وجہ سے معاشرے میں طلاقیں، منشیات کی لت اور عدم تحفظ میں اضافہ ہورہا ہے’۔ ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ‘تقریباً ایک ملین ایرانیوں نے پہلے ہی اپنے سیٹلائٹ ڈش اور ریسیورز رضاکارانہ طور پر حکام کے حوالے کردیئے ہیں’۔ واضح رہے کہ ایرانی قوانین کے مطابق سیلائٹ کے سازوسامان پر پابندی عائد ہے اور جو کوئی بھی ان کی تقسیم، استعمال یا مرمت میں ملوث پایا گیا، اس پر 2 ہزار 8 سو ڈالر جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔ ایرانی پولیس باقاعدگی سے مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر چھتوں پر لگائے گئے یہ سیٹلائٹ ڈش ضبط کرتی رہتی ہے۔ ایران کے وزیر ثقافت علی جنتی نے گذشتہ ہفتے اس قانون کے جائزے پر زور دیتے ہوئے کہا، ‘اس قانون کے ازسر نو جائزے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ پابندی ہونے کے باوجود بھی زیادہ تر ایرانی سیٹلائٹ ڈشز کا استعمال کرتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ 70 فیصد ایرانی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں’۔ ناغدی نے علی جنتی کے ان ریمارکس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ‘وزیر ثقافت کو عوام کے سامنے سچائی بیان کرنی چاہیئے’۔ ان کا مزید کہنا تھا، ‘زیادہ تر سیٹلائٹ چینلز نہ صرف خاندانی بنیادوں کو کمزور کرتے ہیں بلکہ بچوں کی تعلیم اور رویوں پر بھی اثرانداز ہوتے ہیں’۔ واضح رہے کہ ایران میں درجنوں غیر ملکی فارسی نیوز، انٹرٹینمنٹ اور فلموں کے سیٹلائٹ چینلز نشر کیے جارہے ہیں۔ قدامت پسند ان چینلز کے خلاف ہیں اور انھیں ایرانی روایات و اقدار کو متاثر کرنے کا ایک ذریعہ گردانتے ہیں۔ دوسری جانب ایران کے روشن خیال صدر حسن روحانی، جن کی مدت صدارت جون 2017 میں ختم ہورہی ہے، متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ سیٹلائٹ ڈشز پر پابندی غیر ضروری ہے۔