نوشکی : سیٹلائیٹ ٹاون پولیومرکزخودکش بم حملے میں شہیدہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین سات ماہ گزرنے کے باوجود کمپلسری ایڈاوردیگرمراحات سے محروم وزیراعلی اورمحکمہ پولیس کے اعلانات بے سود شہداکی فائلیں غائب ہونے کی وجہ سے لواحقین کئی ماہ سے کوئٹہ کے چکرلگانے پرمجبورتفصیلات کے مطابق 13جنوری 2016کوکوئٹہ کے علاقے سیٹلائٹ ٹاون میں پولیومرکزپرخودکش حملے میں نوشکی پولیس کے تین جوان محمدآصف،نوراللہ اورفیض اللہ شہیدہوئے تھے وزیراعلی بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری نے شہداکے لواحقین کے لیے اپنی جانب سے بطورامداد دس دس لاکھ روپے اور محکمہ پولیس کی جانب سے شہداکی تنخوائیں جاری رکھنے ایک رشتہ دار کو پولیس میں نوکری دینے اورشہداکے اہل خانہ کے لیے تیس تیس لاکھ روپے کا اعلان کیاگیاشہدپولیس کانسٹیبل محمدآصف کے والدصوباخان اورشہیدکانسٹیبل اللہ نور کے بھائی جاویداحمدجمالدینی نے نوشکی پریس کلب میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ سات ماہ گزرنے کے باوجود محکمہ پولیس کی جانب سے ہمیں صرف طفل تسلی دی جارہی ہیں شہیدوں کی وارث ہونے کے باوجود ہمیں امداد اورعزت دینے کی بجائے دفاترمیں ہماری تذلیل کی جارہی ہیں گزشتہ کئی ماہ سے ہم ایس پی آفس نوشکی اورآئی جی پولیس آفس کی چکرکاٹ رہے ہیں متعلقہ دفاترکے اہلکار ہمیں مختلف حیلوں اوربہانوں سے ٹرخارہے ہیں انہوں نے وزیراعلی بلوچستان اوردیگرحکام بالا سے اپیل کی کہ سیٹلائیٹ ٹاون دھماکے میں شہیداہلکاروں کے ورثاء کو فوری اورباعزت طریقے سے تمام مراحات دی جائے جوہماری حق ہیں۔