اسلام آباد : نیب نے ایل این جی ٹرمینل ٹو کی تعمیر کے ٹھیکے میں اربوں روپے کی مالی بے قاعدگیوں کی تحقیقات کا دائرہ وسیر کرتے ہوئے سیکرٹری پٹرولیم ارشد مرزا وفاقی وزیر شاہد اقبال عباسی کے علاوہ دیگر اعلیٰ افسران کو شال تفتیش کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے طلب کر لیا ہے۔ وزارت پٹرولیم کے اعلٰی حکام نے عدالت عالیہ سندھ کی طرف سے حکم امتناعی جاری کرنے اور نیب کی طرف سے تحقیقات مرحلہ مکمل کئے بغیر یہ ٹھیکہ من پسند نجی کمپنی کو الاٹ کر دیا تھا۔ وزارت پٹرولیم کے حکام نے مختلف میڈیا میں یہ تاثر بھی دیا تھا کہ نیب نے یہ تحقیقات بند کر دی ہیں لیکن نیب کے سینئر حکام نے آن لائن کو بتایا ہے کہ تحقیقات بند نہیں ہوئی بلکہ ٹرمینل ٹو کا ٹھیکہ دینے میں قواعد کی خلاف ورزی کرنے پر سیکرٹری پٹرولیم وزیر پٹرولیم و دیگر حکام سے باز پرس اور تحقیقات کی جایں گی۔ یہ تحقیقات ڈائریکٹر جنرل نیب سندھ کرنے میں مصروف ہیں۔ ذرائع کے مطابق وزارت پٹرولیم ملک میں ایل این جی کی درآمد کے لئے پورٹ قاسم پر دوسرا ایل این جی ٹرمینل تعمیر کرنا چاہتی ہے اسی مقصد کے لئے کئی کمپنیوں نے بولی میں حصہ بھی لیا تھا حکام نے کم بولی دینے والوں کو ٹھیکہ دینے کی بجائے دیگر کمپنیوں کو ٹھیکہ دینے بارے لیٹر جاری کیا تھا۔ جس کو عدالت عالیہ سندھ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ عدالت نے حکم امتناعی بھی جاری کر دیا ہے لیکن پاکستان ایل این جی کمپنی لمیٹڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹر نے ٹھیکہ دینے کی منظوری دے دی ہے جس پر سیکرٹری پٹرولیم بھی راضی ہیں اب نیب حکام نے اس پورے ٹھیکہ جس کی مالیت اربوں روپے ہے کی تحقیقات حتمی نتیجہ تک پہنچانے کا فیصلہ کرتے ہوئے ذمہ دار کرپٹ افسران کو نوٹسز جاری کر دیئے ہیں۔ پورٹ قاسم پر پہلے ہی ایل این جی ٹرمینل تعمیر کیا گیا ہے یہ ٹرمینل اینگرو کمپنی نے تعمیر کیا تھا ۔ حکومت نے اینگرو کمپنی کے مالک کو اب ایم ڈی پی ایس او تعینات کر رکھا ہے۔ حکومت گیس سے بجلی پیدا کرنے والے کارخانوں کے لئے ایل این جی درآمد کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔#/s#۔( علی؍رانا مشتاق)