کوئٹہ : لاپتہ بلوچ اسیران شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 2391 دن ہوگئے اظہار یکجہتی کرنے والوں میں کوہلو سے حبیب مری بلوچ اپنے ساتھیوں سمیت لاپتہ افراد شہداء کے لواحقین سے اظہاریکجہتی کی اور انہوں نے گفتگو کرتیہوئے کہاکہ ایک دن ہم لوگ کراچی میں نواب خیر بخش مری کے محفل میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ تو نواب خیر بخش مری نے کہاکہ آزادی پسندوں کو چاہئے کہو دشمن کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ اپنا دفاع اولین فرض سمجھ کرکریں۔ کیونکہ یہ زندگی ان کی ذاتی ملکیت نہیں۔ بلکہ یہ قومی امانت ہے اس کا استعمال سوچ سمجھ کر دشمن کی مکاری چالبازی طاقت حکمت عملی اور وسائل کو مد نظر رکھ کریں وائس فار مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ ریاستی بے لگام خفیہ ادارے بلوچوں پر ظلم کے پہاڑ گرا رہی ے ۔ بلوچوں کو اغواء کیا جا رہاہے حالیہ ہی میں کراچی سے سماجی کارکن کامریڈ واحد کو خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے سہراب گوٹھے کے چیک پوسٹ سے وین اتار کر ساتھ جو اندرون سندھ آرہا تھا ۔ اور اس کے ساتھی کو بھی ساتھ لے گئے جو بعد میں اسے چھوڑ دیا ۔ یہ چشم دید گواہ ہے ۔ مگر آفسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ دنیا خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے ۔ مذہب دنیا کو انسانی دوستی کی بنیاد پر ریاست کے ظلم کے خلاف آوازبلند کرنا چاہئے بلوچستان اور سندھ میں انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے۔ انسانی حقوق کے اداروں کا فرض بنتا ہے ۔ کہ وہ حقوق انسانی کے حق میں آواز بلند کریں۔ بلوچستان اور سندھ میں غیر قانونی طورپر اغواہ ہونے والوں کو بازیاب کروائیں۔ اگر دنیا اس طرح خاموشی اختیار کی تو انتشار انارکی اور تباہی کی طرف جائے گا۔ جس کا ذمہ دار مذہب دنیا اور انسانی دوست ادارے ہوں گے اگر قو م کو متحدہ دوسرے ملکوں میں مداخلت کرسکتا ہے ۔ تو بلوچستان میں کیوں نہیں ۔