کوئٹہ: پشتونخواملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ سانحہ کوئٹہ ایجنسیوں کیلئے ٹیسٹ کیس ہے ایجنسیوں کی ذمہ داری ہے کہ پتہ لگائے کس نے حملہ کیا ہے حقوق کی بات کرنا ’’را‘‘ کا ایجنٹ ہونا ہے تو سوچا جاسکتا ہے اگر’’را‘‘ کی ایجنٹی یہ ہے کہ ملک میں آئین کی بالادستی جمہوریت کی مضبوطی اور صوبوں میں محکوم اقوام کے حقوق ان کو دیئے جائیں تو یہ اچھی ایجنٹی ہیں ہم محب وطن ہیں مادروطن کا سودا انگریزوں سے نہیں کیا تو ’’را‘‘ سے کس طرح کریں گے کوئی برا مانتا ہے تو مانے سفید کو سفید کہوں گا ہم شہیدوں کو اٹھا اٹھا کر تھک گئے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ سے سوال کرتا ہوں کہ کوئٹہ میں دو ہزار لوگ مارے گئے قاتل کہاں ہیں اور اب تک کتنے قاتلوں کو پکڑاہے ہمارے تحریک ہمیشہ جمہوری جاگیرداری کیخلاف تھی دہشت گردی کو عوام کی حمایت کے بغیر نہیں جیت سکتے ہمارے بچے مریں ہیں ان کا جواب کس نے دینا ہے اور کس سے پوچھنا ہے یہ ایک سوالیہ نشان ہے ہم لاشیں اٹھا اٹھا کر تھک گئے ہیں یہ ملک ہمارا ہے اور ہمیں سب سے پیارا ہے ہم نے مادر وطن کا سودا انگریزوں سے نہیں کیا تو اب ’’را‘‘ سے کس طرح کریں گے ’’را‘ ‘ نے اتنے پروپیگنڈے نہیں کئے جتنے ہمارے کچھ چینل پروپیگنڈے کرتے ہیں جس معاشرے میں انصاف نہ ہو وہ ملک نہیں چلے گا ہم نے پاکستان کیخلاف کبھی نہیں بولا ہے لیکن سچ بولنا ہے سچ چاہئے کسی کو کڑوا لگے یا میٹھا لگے سچ کے بغیر ہم کبھی بھی اس ملک کو نہیں چلا سکتے ہم نے عوام کو اب تمام صورتحال سے باخبر کرنا ہوگا چوہدری نثار سمیت سب کو سچ بولنا ہوگا انہوں نے کہا کہ جب ہم حقوق کی بات کرتے ہیں یا آئین و قانون کی بالادستی کی بات کرتے ہیں تو ہم پر ’’را‘‘ کی ایجنٹی کا الزام لگایا جاتا ہے اور ہم کبھی بھی نہ پہلے ’’را‘‘ کے ایجنٹ رہے نہ اب رہیں گے جس نے جو کچھ بولنا ہے وہ بولتا رہے ہم محب وطن لوگ ہیں اور کسی سے سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں ہے وزیراعظم نوازشریف اگر آئین کا ساتھ دیتے ہیں تو کوئی ساتھ سے یا نہ دے ہم ضرور ساتھ دیں گے آئین پر عملدرآمد نہ ہونے سے شکوک جنم لیتے ہیں پرواکسی وارکیلئے ملک کو میدان جنگ نہ بنایا جائے کوئی برا مانتا ہے تو مانے سفید کو سفید کہوں گا چمن میں آئے روز لوگ اغواء ہوتے ہیں چمن میں اغواء کاروں کو کس کا تحفظ حاصل ہے سانحہ کوئٹہ ایجنسیوں کیلئے ٹیسٹ کیس ہے ایجنسیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کا پتا چلائیں ’’را‘‘ کشمیر میں کچھ نہیں کرسکا تو یہاں کیا کرسکتا ہے جو آئین کی پاسداری نہیں کرے اس سے معذرت ہے جو سیاستدان جنرل آئین کے دائرہ کار میں ہوگا سلوٹ کرونگا سب اپنی ڈیوٹی کررہے ہیں کسی پر احسان نہیں ہے ۔