|

وقتِ اشاعت :   August 17 – 2016

کوئٹہ: عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ ملک سے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے مذاکرات میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا البتہ دہشتگردوں کے خلاف کا رروائی سے متعلق سنجیدگی کا مظاہرہ کیا گیا دہشتگردی ختم نہ ہونے کی وجہ سے پشتون اور بلوچ قوم تباہی سے دوچار ہو گئے اگر یہ سلسلہ نہ روکا تو یہ لہر پنجاب اور سندھ میں بھی پھیل سکتا ہے پنجاب میں 70 کالعدم تنظیم کے خلاف کا رروائی نہ ہونے کی وجہ سے خیبر پختونخو اور بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں داعش کو 35 ممالک فنڈنگ کر رہے ہیں اور اس میں پاکستان بھی شامل ہے داعش کا وجود موجود ہے اس سے انکار کوئی نہیں کر سکتا البتہ حکمران خوف کے مارے داعش کے موجودگی کے بارے میں انکاری ہے کیونکہ انہیں عوام کی جانیں عزیز نہیں البتہ ووٹ بینک زیادہ عزیز ہے نیشنل ایکشن پلان اور 20 نکاتی ایجنڈے پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے سانحہ کوئٹہ رونما ہوا ہے دہشتگردی کی فضاء کو ختم کر نے کیلئے مضامین سے جہادی لیٹریچر خارجہ اور اندرونی پالیسیوں کو تبدیل کر نا ہو گا اور ہمسایہ ممالک کیساتھ اچھے تعلقات استوار کر نا دہشتگردی کے خاتمے میں بہتر مدد گار ثابت ہو سکتا ہے اگر ہم اب بھی دہشتگردی کے خلاف متحد نہ ہوئے تو پھر دہشتگردی کا روکنا بہت مشکل ہو گا سانحہ کے وقت کسی بھی اوپر الزام لگانا غلط ہے اور بغیر تحقیق ایسے بیانات سے حالات مزید بگڑسکتے ہیں اگر ثبوت ہے تو سفارتی سطح پر ان کو اٹھایا جائے ان خیالات کا اظہار انہوں نے ارباب ہاؤس میں عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں ایمل ولی خان، ارباب عبدالظاہر کاسی، انجینئر زمرک خان اچکزئی، حاجی نظام الدین کاکڑ، ارباب عمر فاروق، سینیٹر داؤد خان اچکزئی، رشید خان ناصر، ملک عثمان اچکزئی اور ملک نعیم خان بازئی کے ہمراہ ارباب ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کیا انہوں نے کہا ہے کہ کسی کو بھی یہ احساس نہیں ہے کہ کون دہشتگردی میں مر رہے ہیں البتہ کرسی بچانے اور ریٹائر منٹ کی باتیں ہو رہے ہیں آج حکمرانوں کو ہوش آیا کہ مانیٹرنگ کمیٹی بنا دی اور اس سے یہ اندازہ ہو گا کہ اس وقت سے لے کر آج تک نیشنل ایکشن پلان ناکام رہا لیکن اس تمام تر صورتحال کے باوجود عوامی نیشنل پارٹی دہشتگردی کے خاتمے کے حوالے سے ساتھ دے رہی ہے انہوں نے کہا ہے کہ آج بھی حکومت اور سیاسی جماعتیں دہشتگردی کے خاتمے کیلئے اگے آنے کو تیار نہیں ہے جب فوج، پولیس اور حکومت دہشتگردی کے خاتمے کی بات کر تے ہیں تو انہیں نشانہ بنایا جا تا ہے دنیا کے سطح پر دہشتگرد متحد ہے لیکن ہم دہشتگردی کے خاتمے کے حوالے سے متحد نہیں ہے اور آج بھی ہم ایک دوسرے سے آگے آنے کیلئے تیار نہیں ہے انہوں نے کہا ہے کہ سانحہ کوئٹہ جیسے واقعات انتہائی بزدلانہ اقدام ہے اور جس طرح وکلاء،اور صحافیوں کو نشانہ بنایا گیا کہ انتہائی منصوبے کے تحت کام کیا ہے سانحہ کوئٹہ میں جس طرح وکلاء کو شہید کیا گیا اس بات کا احساس ہمیں ہے کیونکہ ہم نے بھی 800 کارکنوں کے جنازے اٹھائے اور کئی بڑے رہنماء اس سر زمین کی خاطر شہیدہوئے دہشتگردی کا خاتمہ اب ختم کر نا ہو گا انہوں نے کہا ہے کہ کوئٹہ میں وکلاء کو نشانہ بنایا اور آج اگر ملک میں جمہوریت موجود ہے تو یہ وکلاء کے مرہون منت ہے اوریہ سیدھی سادی بات نہیں ہے منصوبے کے تحت وکلاء کو نشانہ بنایا انہوں نے کہا ہے کہ ہم آپ کے ساتھ ہے اور عوامی نیشنل پارٹی خود دہشتگردی کا شکار ہوئی ہے اور ہم آپ کے غم کو اپنے غم تصور کر تے ہیں ہم امن اس کو کہتے ہیں ایک واقعہ سے دوسرے واقعہ تک کوئی واقعہ رونما نہ ہو اب کسی بھی واقعہ کا انتظار نہ کریں بلکہ حالات کا مقابلہ کر نے کیلئے کمر بستہ ہونا ہو گا وکلاء نے جس طرح جمہوریت کی بحالی کیلئے تحریک شروع کی اور اسی طرح دہشتگردی کے خاتمے کیلئے بھی وکلاء تحریک شروع کریں افسوس اس بات پر ہے کہ دہشتگرد اپنے مزموم عزائم کوپائیہ تکمیل تک پہنچا نے کیلئے اکٹھے ہیں مگر بد قسمتی سے ہم دہشتگردی کو ختم کر نے کیلئے اکٹھے نہیں ہے اور تقسیم در تقسیم کی وجہ سے دہشتگرد فائدہ اٹھا رہے ہیں انہوں نے کہا ہے کہ کبھی سی پیک اور کبھی دوسرے معاملات میں ہمیں نشانہ بنا رہے ہیں انہوں نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں پشتون اکیلے جنگ نہیں سکتے بلوچوں کو بھی ساتھ دینا ہو گا کیونکہ بلوچ تو پہلے ہی متاثرہ ہوئی ہے