|

وقتِ اشاعت :   March 14 – 2017

سنجاوی: پاکستان پیپلز پارٹی سنجاوی کے زیر اہتمام انتخابی جلسے سے صوبائی صدر علی مدد جتک ،ضلعی صدر شیر محمددُمڑ،صوبائی سیکرٹری اطلاعات سربِلند خان جوگزئی،قبائلی رہنماء صابر خان دُمڑ ،سردار فرید اللہ دُمڑ،ثنا ء اللہ جتک،چوہدری شان،مولوی شیر جان،خیر محمد ناصر،سید اقبال شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پشتون اور بلوچ کا ایک رسم و رواج ہے جس کی پیروی پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری نے بھی پاس داری کرتے ہوئے جمعیت علماء اسلام کا مرحوم ایم پی اے حاجی گل محمد دُمڑکا صابزادہ خلیل الرحمن دُمڑ کے حمایت کا علان کیا ہے مگر افسوس نام نہاد پشتون قوم پرست اور (ن) لیگی عہدے داروں پر جنہوں نے ان کے حمایت کرنے کے بجائے انکے مقابلے میں اپنے اپنے اُمیدوار کھڑا کیں۔انہوں نے کہا کہ پشتون قوم پرست 22مارچ کے الیکشن میں ان کا ڈبہ گورنر نہیں بر سکتا اگر گورنر میں اتنا ہمت ہے تو اپنے اُمیدوار کو انتخابی نشان الاٹ کرواتا۔اور کہا کہ 2013 کے الیکشن میں پشتونخوا کے ڈبے بروانے والے اب بلوچستان میں نہیں ہے اور وہی لوگ پچتا رہے ہیں۔کہ ہم نے ان کے ڈبے بروائے مگر یہ وہ نمک حرام لوگ ہے جو اسمبلی فلور پر کھڑے ہوکر ہمارے ملک کیخلاف باتیں کرتے ہیں۔آج وقت آ گیا ہے کہ انکے ڈبے خالی پڑے نگے ۔انکا انتخابی نشان درخت نہیں تھا بلکہ ٹماٹر کا پودہ تھا سردی آتے ہی ختم ہو جا تا ہے ۔پشتونوں کا نعرہ لگانے والے اب کہا ہے پنجاب میں جس طرح پشتونوں کو شناختی کارڈ کے نام پر بے عزت کرتے ہیں ۔ پشتونیت کا دعویٰ کرنے والے اب کہا گئے اسی طرح 1993میں اختر مینگل نے نواز شریف کے پرنٹ سیٹ پر بیٹھ کر ڈرائیورنگ کی ہے یہی خان صاحب پشتونیت کا دعویٰ کرنے والے نواز شریف کے اتنے وفادار ہے کہ پنجاب کے عوام بھی نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب پاکستان پیپلز پارٹی اور اے این پی نے جمعیت سے اتحاد کیا تو یہی لو گوں نے پیپلز پارٹی اور اے این پی پر پیسوں کا الزام لگا یا مگر پیسوں کیلئے نہ کبھی بھٹو بیکا ہے اور نہ ہی باچا خان۔بیکنے والے وہی ہے جو آج اسلام آباد میں نواز شریف کے جوتے پالش کرتے ہیں۔آج ان لوگوں کی ٹینکوں اور چھتوں سے پیسے نکل رہے ہیں۔