|

وقتِ اشاعت :   March 18 – 2017

جنیوا : ورلڈ بلوچ آرگنائزیشن کے جانب سے سی پیک ،بلوچ نسل کشی اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے متعلق سوئٹزلینڈ کے شہر جنیوا میں ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس سے اقوام متحدہ میں بلوچ نمائندہ میر نورالدین مینگل، دانشور راشد الرحمان اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کے نمائندے جیکمار نے خطاب کیا جبکہ کانفرنس میں بلوچ رہنماء4 مہران بلوچ، طارق فتح اور بہاول مینگل سمیت سیاسی اور انسانی حقوق کے کارکن و نمائندے شریک تھے۔ اس موقع پر مقریرین نے کانفرنس کے شرکاء4 سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی ہورہی ہیں۔ فورسز سی پیک کو لیکر بلوچوں کی نسل کشی کررہی ہیں اور سی پیک کو بلوچ قوم کے لاشوں پر بنایا جارہا ہے۔ چین خطے میں اپنی سیاسی، فوجی اور معاشی اجارہ داری قائم کرنے کے لئے گوادر میں اپنی تسلط جما رہی ہیں اور اس مقصد کے لئے وہ گوادر میں اپنی فوج کو تعینات بھی کررہی ہیں۔ گوادر میں سرمایہ کاری بلوچ سرزمین پر قبضہ کی مترادف ہے کیونکہ بلوچستان ایک جنگ ذدہ خطہ ہے اور مقبوضہ علاقہ ہے۔ ریاست بلوچ سرزمین پر قابض ہے اور طاقت کے بل بوتے پر بلوچ وسائل کو لوٹ رہی ہے جبکہ اس لوٹ مار و قبضہ میں چین اْسکا پارٹنر ہے جو ملکر بلوچ ساحل، وسائل پر قبضہ جماکر بلوچوں کو بلوچستان سے بیدخل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی قوتیں بلوچستان میں بلوچ قوم کے شرکت اور مرضی و منشاء4 کے بغیر سی پیک جیسی استصالی منصوبے کو روکنے کے لئے بلوچوں کی مدد کریں۔ مقررین نے مزید کہا کہ فورسز بلوچ قوم کی نسل کشی میں روز بروز تیزی لا رہی ہیں اب بلوچ خواتین کو اغوا کرکے لاپتہ کی جارہی ہیں اور اجتماعی قبروں میں دفنائی جارہی ہیں اگر اقوام متحدہ نے ریاستی بربریت کا نوٹس نہیں لیا تو بلوچستان میں بدترین انسانی المیہ جنم لے گا۔