|

وقتِ اشاعت :   March 19 – 2017

کوئٹہ: صوبائی مشیر اطلاعات سردار رضا محمد بڑیچ نے کہا ہے کہ انہیں یہ جان کر بیحد خوشی محسوس ہوئی ہے کہ عامل صحافیوں کی ملک بھر میں سب سے بڑی ا ور فعال تنظیم پی ایف یو جے کے آئندہ الیکشن کیلئے کوئٹہ کا انتخاب کیاگیا ہے انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ پی ایف یو جے کے انتخابات میں ایک ایسی فعال اور مخلص قیادت کا انتخاب کیا جائیگا جو ملک بھر کے صحافیوں کی فلاح و بہبود کیلئے موثر اقدامات کی حامل ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز یہاں ملک بھرسے آئے ہوئے بی ڈی ایم کے مندوبین کے اعزاز میں وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری کی جانب سے دےئے گئے عشائیہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی مشیر اطلاعات نے کہا کہ شعبہ صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے اس حوالے سے اس شعبہ پر بھاری ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں صحافت سے وابستہ لوگ اپنی ذمہ داریاں یقیناًاحسن طریقے سے ادا کررہے ہیں انہوں نے اس موقع پر صحافی برادری سے شکورہ کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کو جغرافیائی اور وسائل کے حوالے سے حاصل اہمیت کو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں تاحال وہ جگہ نہیں مل سکی جو اسے ملنی چاہئے اور اسے میڈیامیں یکسر نظر انداز کیا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان دہشتگردی کی کسی کاروائی کے حوالے سے بریکنگ نیوز تو آجاتی ہے لیکن حکومتی اقدامات ، کامیابیوں کو بریکنگ نیویز بنانا تو درکنار اسے معمول کی خبروں میں بھی شامل نہیں کیا جاتا ، صوبائی مشیر اطلاعات نے کہا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ریاست کے چوتھے ستون ہونے کے ناطے میڈیا پر قومی یک جہتی کے فروغ اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی کے حوالے سے بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کے چاروں صوبوں کو میڈیا میں اہمیت ملنی چاہئے جس سے باہمی بھائی چارے ، ہم آہنگی اور قومی یک جہتی کو فروغ مل سکتا ہے صوبائی مشیر نے کہا کہ بلوچستان کے لوگ سادہ دل ، مہمان نواز اور محب وطن ہیں اور بلوچستان کے حوالے سے میڈیا اور دیگر ذرائع میں پیدا کیا جانے والا تاثر درست نہیں انہوں نے کہاکہ بلوچستان 2002سے 2012تک انتہائی نامساعدحالات کا شکار رہا ہے اس دوران بدامنی کے باعث صوبے کے عوام خوف و ہراس اور عدم تحفظ کا شکار تھے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت نے برسراقتدار آتے ہی سب سے زیادہ توجہ امن کی بحالی کی جانب مرکزو کی پہلے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور اب موجود وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ خان زہری کی قیادت میں صوبائی نے امن واستحکام میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں اس سلسلے میں سیکورتی فورسز کی قربانیوں ، حکومتی اقدامات اور سب سے بڑھ کر عوام کے تعاون سے امن وامان کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی جس کا مشاہدہ صہافی برادری سمیت سب نے کیا ہوگا۔ صوبائی مشیر نے اس موقع پر بتایا کہ بلوچستان میں شعبہ صحافت سے وابستہ افراد نے بھی اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے اور بلوچستان میں فرائض کی ادائیگی کے دوران شہادت حاصل کرنے والے صحافیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے انہوں نے کہا کہ ہم شہید صحافیوں کی قربانی کی دل سے قدر کرتے ہیں ، صوبائی حکومت نے شہید صحافیوں کے لواحقین کی داد رسی اور ان کی مالی مشکلات کے حل کیلئے انہیں مالی معاونت فراہم کی صوبائی مشیر اطلاعات نے شرکاء کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ صوبائی حکومت میڈیا ہاؤسز کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے کمشنر کوئٹہ، ڈی آئی جی کوئٹہ ، محکمہ اطلاعات کے حکام اور صحافی تنظیموں کے نمائندہ پر مشتمل قائم کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں اقدامات کررہی ہے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت عامل صحافیوں کی فلاح و بہبود کو بھی اہمیت دیتی ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ صحافیوں کو احساس تحفظ کے ساتھ ساتھ کام کا بہتر ماحول بھی ملنا چاہئے تاکہ وہ لگن اور یکسوئی سے اپنے فرائض کی انجام دہی جاری رکھ سکیں۔ صوبائی مشیر نے اس موقع پر بتایا کہ موجودہ صوبائی حکومت نے صحافیوں کے بہبود فنڈز میں گرانقدر اضافہ کرتے ہوئے اسے تین کروڑ کردیا ہے جبکہ اس میں مزید اضافے کیلئے وزیراعلیٰ بلوچستان کے اعلان کردہ پیکج پر بھی جلد عملدرآمد کیا جائے ۔انہوں نے مزید بتایا کہ کوئٹہ پریس کلب کی سالانہ گرانٹ میں دوگنا اضافہ کیاگیا ہے جبکہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے صحافیوں کیلئے رہائشی کالونی کے قیام کیلئے اراضی کی فراہمی کا اعلان بھی کیا ہے اور صحافی حضرات جلد ہی اس حوالے سے خوشخبری سنیں گے۔ صوبائی مشیر اطلاعات نے اس موقع پر صحافی برادری سے درخواست کی کہ وہ اپنے قیام کے دوران جو کچھ دیکھیں اور مشاہدہ کریں اسے ضرور ضبط تحریر میں لائیں اور اسے اپنے پروگراموں میں اجاگر کریں جو بلوچستان کے بارے میں منفی پراپیگنڈے کو زائل کرنے کے ساتھ ساتھ اہل بلوچستان اور صوبائی حکومت کیلئے حوصلہ کا باعث ہوگا اس موقع پر سینئر صحافی ریاض احمد اور بی یو جے کے صدر خلیل احمد نے بھی خطاب کیا۔ تقریب میں صوبائی وزراء عبدالرحیم زیارتوال اور عبیداللہ جان بابت نے بھی شرکت کی۔