|

وقتِ اشاعت :   May 17 – 2017

اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ بندی ترقی اور اصلاحات احسن اقبال نے ’’ سی پیک ماسٹرپلان‘‘ کا انکشاف کے عنوان سے شائع ہونے والی ایک خبر پر کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) ایک دستاویزی منصوبہ نہیں بلکہ طویل مدتی منصوبے کے لیے دونوں جانب کی رضامندی سے خاکہ تیار ہوا ہے۔

اپنے ایک بیان میں احسن اقبال کا کہنا تھا کہ یہ ایک براہ راست معاہدہ ہے اور چین اور پاکستان دونوں کے درمیان اس کی وضاحت کرنے کے حوالے سے ایک سمجھوتہ ہے جس کا وقفے وقفے سے ضرورت کے مطابق جائزہ لیا جاتا رہے گا۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ایک خبررساں ادارے کی خبر یک طرفہ اور اعداد وشمار کے لحاظ سے ناقص ہے اور یہ بدترین کاغذات پر مشتمل ہے تاہم انھوں نے خبر کے نقائص کے حوالے سے وضاحت نہیں کی۔منصوبے کی وضاحت کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ چائنا ڈیولپمنٹ بینک اور نیشنل ڈیولپمنٹ اور ریفارم کمیشن (این ڈی آرسی)کی تحقیق سے تیار طویل مدتی منصوبہ بنیادی طور پر صرف مشاورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے سی ڈی بی اور این ڈی آر سی کے کام کو سراہنے کے لیے ٹرانسپورٹ مونوگرافک اسٹڈی تیار کرلی ہے اور دونوں اطراف کے درمیان گفتگو کے بعد مشترکہ منصوبہ تیار کیا گیا تھا جس کوتمام صوبوں، متعلقہ وزارتوں اور شعبوں کو طویل مدتی منصوبے کے لیے ان کے مشوروں کے لیے بھیج دیا گیا تھا۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے وسیع مشوروں کے بعد طویل مدتی منصوبوں میں رائے دی گئی تھی اور حتمی منصوبہ کابینہ اور وزیراعظم کے دفتر کو بھی بھیج دیا گیا تھا۔انھوں نے کہا کہ طویل مدتی منصوبے کو کابینہ کی جانب سے منظوری دی گئی تھی اور باہمی معاہدے کے لیے چین کو اس سے آگاہ کیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ طویل مدتی منصوبے کا کوئی بھی ورژن منظوری سے قبل غیرمتعلقہ اور ناقص تصور ہوگا۔وفاقی وزیر نے اسٹیک ہولڈرز کو مختصر ورژن سے آگاہ کرنے کے علاوہ حتمی ڈرافٹ کو این ڈی آر سی کے ساتھ بیجنگ میں عام کرنے کے حوالے سے بھی کچھ وضاحت نہیں کی۔