|

وقتِ اشاعت :   July 1 – 2017

لاہور: وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ  اگر ہم گرے تو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بھی گریں گے، ملک میں کوئی حادثہ ہوا تو عمران خان اس ذمے داری سے نہیں بچ پائیں گے۔

اپنے انتخابی حلقے میں عید ملن پارٹی سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ہمیں چار سال میں کام کرنے نہیں دیا گیا اور ہمیں اس بات کا حق ہےکہ اپنے لوگوں کے جذبات سامنے لائیں جب کہ ہم نے ساری زندگی کھیل میں نہیں گزاری اور نہ ہی بال دھوپ میں سفید کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیاست سے نکالنا ہے تو میدان میں آؤ اور ووٹ کی طاقت سے نکالو لیکن آج  پھر اکثریت پر اقلیت کے فیصلے کو نافذ کیا جارہا ہے، جب بھی اکثریت کا فیصلہ نہیں مانا گیا تو ملک ٹوٹ گیا۔

سعد رفیق  نے عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہنا تھا کہ خان صاحب سیاست میں بیلنس کیا جاتا ہے اور وفاقی وزیر ہوتے ہوئے ڈیڑھ سال پہلے مجھے صرف بیلنس کرنے کے لیے گرفتار کرنے کی بات کی گئی لیکن اب ٹانگیں کھینچنے کی سیاست ختم کرو اور کچھ لوگ سمجھتے ہیں پہلے احتساب کرو پھر ملائکہ کی حکومت پاکستان لائینگے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم گرے بھی تو خان صاحب آپ کی باری نہیں آئے گی اور غیر فطری طریقے سے نکالو گے تو ہم زیادہ طاقت سے واپس آئیں گے جب کہ منصوبوں میں کرپشن کا الزام لگانے والوں نے اب تک کوئی ثبوت نہیں دیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حسین نواز کی تصویر کس نے لیک کی اس کے حوالے سے قوم کو کچھ نہیں بتایا گیا جب کہ جے آئی ٹی کے ایک ممبر مشرف دور میں شریف خاندان کے پیچھے لگائے گئے تھے۔

‘ہم نہ گاڈ فادر اور نہ سسیلین مافیا’

انہوں نے کہا کہ یہ سر عدلیہ کے سامنے جھکا رہے گا لیکن اگر عدالت ہمیں جرائم پیشہ تنظیم سسیلین مافیا سے ملائے گی تو ہم کہاں جائیں گے؟ اسی لیے ہم نہ گاڈ فادر اور نہ سسیلین مافیا، جب بھی الزام لگا تو تردید کریں گے لہذا بغیر ثبوت کے ایک سیاسی جماعت کے لیے ایسے الفاظ استعمال نہیں کرنے چاہییں۔

سعد رفیق کا کہنا تھا کہ ہم نے آمریت کے خلاف اور عدلیہ کی آزادی کی جنگ لڑی ہے اور عدلیہ کی آزادی کی جنگ لڑنے کا کریڈٹ ہم سے کوئی واپس نہیں لے سکتا۔

انہوں نے کہا کہ ہم اداروں کا احترام کرتے ہیں اور اگر احترام نہ کیا گیا تو پاکستان کی سرزمین بےآئین بن جائے گی۔