حب: حب میں موسلادھار بارش ،نشیبی علاقے زیر آب آگئے دارو ہو ٹل ڈوھوروں،حب ندی میں طغیانی آگئی۔
کوئٹہ کراچی شاہراہ پر ٹریفک معطل ہوگئی ،شہر کی گلیا ں ،سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگے ،متعد علاقوں میں مکانات مہندم ہونے کی اطلا عات مو صول ہوئی ہیں،سیکڑوں مسافر پھنس گئے ۔
بجلی کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ،مختلف علاقوں میں بارش کا پانی سیوریج کے پان ی کے ساتھ مل کر گھروں میں داخل ہو گیا ،مقامی انتظامیہ غائب ،شہری بے یاروں مددگار نکاسی آب کا نظام نہ ہونے سے مکینوں کی زندگی اجیران بن گئی،طوفانی بارش کے باعث دکانوں و ہوٹلوں کے اندر کئی فٹ تک پانی جمع ہونے سے کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گیا،حب ندی کی صفائی نہ ہونے کے سبب جھاڑیاں پھسنے سے پانی کے بہت بڑے ریلے نے آبادیوں کا رخ کر لیا۔
مکینوں کا گھریلوں سامان ریلے میں بہہ گئے ،لوگوں کو لاکھوں روپے کا نقصان کرنا پڑا ،عید کی خوشیاں ماند میں پڑ گئی،وندر ،اوتھل ،بیلہ ،ساکران ،گڈانی ،شاہ نورانی میں بھی طوفانی بارشوں کے باعث سڑکیں اور پل بہہ جانے کی اطلات ،لسبیلہ میں شگاف پڑ گئے ،حب اور گڈانی کے شہریوں کو پینے کے پانی کی فراہمی بند ہو گئی ،بارش کے دوران گاڑیاں ٹکرانے اور اور موٹر سائیکلوں سے گر کر درجنوں افراد زخمی ہو گئے۔
کوئٹہ کراچی شاہراہ جگہ جگہ ٹوٹ پھوٹ ہونے کی وجہ سے کئی فٹ تک کا بارش کا پانی جمع ہونے سے سیکڑوں موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں پانی لگنے سے خراب ہو گئیں ،تفصیلات کے مطابق بدھ جمعرات کی درمیانی شب کو بلوچستان سب سے بڑے صنعتی شہر حب میں طوفانی بارش کے باعث نکاسی آب کا موثر نظام نہ ہونے کے باعث شہر کے کئی نشیبی علاقے زیر آب آگئے ۔
متعد د گھروں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں طوفانیبارش کے سبب داروں ہوٹل ڈھورہ اور حب ندی میں طغیانی آگئی ،کوئٹہ کو کراچی سے ملانے والی آرسی ڈی شاہراہ داروں ہوٹل کے مقام پر ٹریفک معطل ہو گئی ،شاہراہ کے دونوں اطراف مسافر کوچوں سمیت دیگر چھوٹی بڑی گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں ،سینکڑوں مسافر پھنس کر اپنے آبائی علاقوں میں پہنچنے سے رہ گئے ۔
طوفانی بارش سے بجلی کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گئے ،لسبیلہ کینال کے ٹوٹنے کے سبب حب و گڈانی میں پھرپانی کا شدید بحران پیدا ہو گیا ،حب کے علاقوں مدینہ کالونی، چیزل آباد ،زہری اسٹریٹ ،موندرہ کالونی ،بلوچ کالونی ،آلہ باد ٹاوٗن،لاسی روڈ ،اور محمودآباد سمیت دیگر علاقوں میں بارش کا پانی گٹر لائن کے ساتھ مل کر شہر یوں کے گھروں میں داخل ہو گیا ۔
مقامی انتظامیہ غائبرہی ،داروں ڈھورہ اور حب ندی میں طغیانی آگئی ،ندی کا صفائی نہ ہونے کے سبب جھاڑیاں پھسنے سے پانی کے ریلے نے بالاچ محلے اور اکرم کالونی کا رخ کر کے شہریوں کے گھروں میں داخل ہونے کے باعث گھروں کا سامان بہہ گیا، لوگوں کو لاکھوں روپے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ،طوفانی بارش کے باعث شہر کی گلیاں اور سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگے ۔
شدید بارش کے دوران گاڑیا ں اور موٹر سائیکلیں پھسلن کے باعث درجنوں افراد زخمی ہو گئے،جبکہ حب شہر کے وسط سے گزرنے والی کوئٹہ کراچی شاہراہ جگہ جگہ ٹوت پھوٹ کا شکار ہونے سے بارش کا پانی کئی فٹ تک جمع ہونے سے سفر کرنے والے مسافروں کی گاڑیاں پانی لگنے سے خراب ہوگئیں ۔
راہگیروں سمیت مسافروں کو شدید مشکلات پیش آئی،علاوہ ازیں وندر ،اوتھل، بیلہ ،ساکران ،گڈانی اور شاہ نورانی میں تیز بارشوں کے باعث سڑکیں بہہ جانے کی اطلات موصول ہوئی ہیں تاہم ان علاقوں میں موبائل سروس بند ہونے کے باعث مکمل معلومات حاصل نہیں کر سکتے جبکہ لسبیلہ کینال ٹوٹنے کے سبب مذید پانی کے ریلے حب،انڈسٹریل ایریا سے جام کالونی میں داخل ہو گئی جس کے باعث زمینی رابطے منقطع ہو گئے ،لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے صنعتوں کے انتہائی زہریلے کیمیکلز بھی پانی میں مکس ہو کر جام کالونی ،مدینہ کالونی سمیت دیگر علاقوں میں داخل ہو گیا ،جن سے شدید بد بو پھیلنے کے ساتھ بیماریاں پوٹنے کے امکانات لاحق ہو گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق صفائی اور تجاوزات ختم نہ کرنے کے سبب گورنمنٹ گرلز اسکول دوبارہ متاصر ہوئے جبکہ طوفانی بارشوں کے باعث دیگر سرکاری اسکولوں کو بھی نقصانات کی اطلات ملی ہے ،واضع رہے کے چند ماہ قبل داروں ہوٹل ڈھورہ میں آنے والے سیلابی ریلے میں 14افراف کو بہا کر لے گیا تھااور قریبی آبادیوں کو مسمار کر گیا تھا جس کے بعد انتظامیہ کی جانب سے بڑے بڑے دعوے اور وعدے کئے گئے تاہم ابھی تک ڈھورے کی صفائی نہ ہو سکی البتہ پی ایچ ای کے تالاب سے نکالے جانے والے کیچڑ کو ڈھورے کے مشرقی سایئڈ پر پھینک کر انسانی آبادی کو مذید خطرے میں ڈال دیا گیا ہے ۔
بارش سے نظر چورنگی مارکیٹ مکمل ڈوب گئی ہے جبکہ برساتی نالے میں طغیانی کے باعث کیمیکلز ملے زہریلا پانی شہر کے مختلف علاقوں میں داخل ہو گیا ،تیز طوفانی بارش کے باعث حب و گرونواح میں نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی میونسپل کار پوریشن سمیت حب انتظامیہ کی جانب سے اب تک بارش سے متاثراہ شہریوں کو رلیف پہنچانے سمیت پانی نکالنے کے حوالے سے کوئی سر گرمی شروع نہیں کی ہے ۔
لوگ مختلف علاقوں سے نقل مقانی کر کے محفوظ مقامات کی طرف اپنی مدد آپ کے تحت جا رہے ہے دوسری جانب داروں ڈھورہ میں بارش کاریلہ آنے سے پھسنے والی سینکڑوں گاڑیوں کو ایف سی اور لسبیلہ پولیس نے بحال کر دی ہے۔