کوئٹہ: بلوچستان سے سینیٹ انتخابات کیلئے نوازشریف کا حمایت یافتہ امیدوار اور پارٹی کے صوبائی جنرل سیکریٹری نصیب اللہ بازئی ن لیگ کے منحرف گروپ میں شامل ہوگئے۔
وزیرداخلہ بلوچستان سرفرازبگٹی نے پریس کانفرنس میں ٹیکنوکریٹ کی نشست پر حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ گروپ کے دو امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر نظریاتی ساتھی کی حمایت کا فیصلہ کیا۔ نصیب اللہ بازئی کا کہنا ہے کہ وہ منحرف گروپ کے فیصلوں کے تابع ہوں گے۔
یہ بات انہوں نے وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ میں وزیر تعلیم طاہر محمود، مشیر برائے اطلاعات انوار الحق کاکڑ اور ن لیگ کے رکن اسمبلی حاجی محمد خان لہڑی کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کہی۔
وزیرداخلہ سرفراز بگٹی نے کہا کہ مسلم لیگ ایک ہی ہے اور ہم سب نظریاتی طور پرانے مسلم لیگی ہیں۔ ہمارے اندر کوئی تقسیم نہیں۔ ن اور ق ، گجرات اور لاہور کا فرق ہمارے اندر نہ ڈالا جائے۔ ہم نے ایک آئینی اور جمہوری حق استعمال کرتے ہوئے ایوان کے اندر تبدیلی لائی تھی۔ ہم نے سینیٹ کے انتخابات میں بھی مشترکہ امیدوار سامنے لائے مگر ٹیکنوکریٹ کی نشست پر ہمارے دونوں نامزد کردہ امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوگئے۔
ہم نے الیکشن ٹربیونل، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سمیت تمام آئینی فورم استعمال کئے مگر پھر فیصلہ ہمارے حق میں نہیں آئے۔ اس کے بعد نصیب اللہ بازئی نے ہم سے رابطہ کیا اور ہم نے ٹیکنوکریٹ کی نشست پر ان کی حمایت کا فیصلہ کیا۔
ہمارے پاس اور بھی بہت سے آپشنز تھے۔ڈاکٹر عبدالمناف ترین بھی آزاد امیدوار تھے چونکہ ہم فیڈریشن اور پاکستان پر یقین رکھنے والے لوگ ہیں اس لئے ہم نے اپنے ایک نظریاتی ساتھی کی حمایت کا فیصلہ کیا۔تین مارچ کو انتخابات میں ٹیکنوکریٹ کی نشست پر نصیب اللہ بازئی کو کامیاب کرائیں گے جبکہ جنرل نشست پر ہمارے اپنے امیدوار کھڑے ہیں ہم انہیں کامیاب کرائیں گے۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ جہاں تک ہمارے گروپ کی بات ہے ہم ابھی تک سب کے سب مسلم لیگی ہیں۔ نصیب اللہ بازئی بھی مسلم لیگی ہے۔ ہم بلوچستان کے موجودہ حالات کے پیش نظر ہم سب اکٹھے ہوئے اور آئندہ انتخابات بھی اکٹھے لڑیں گے۔ مسلم لیگ ن کا ہم حصہ رہے ہیں۔ آج بھی اگر انہوں نے حالات کا ادراک کیا اور ہم سے بات چیت کی تو ہم اس کیلئے تیار ہیں۔
ہمارے دروازے ان کیلئے کھلے ہیں۔ پارٹی کی مرکزی قیادت آج بھی ہمارے لئے قابل احترام ہیں لیکن انہوں نے فیصلے جمہوری طریقے سے نہیں کئے۔
بلوچستان کے لوگوں نے وفاق پر یقین رکھنے والوں اور مسلم لیگ کو مینڈیٹ دیا تھا لیکن مرکزی قیادت نے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور نہ ہی ثناء اللہ زہری کو وزیراعلیٰ نامزد کرتے ہوئے پارلیمانی پارٹی کواعتماد میں لیا۔
اب سینٹ کے انتخابات میں امیدواروں کا فیصلہ کرتے ہوئے بھی ہم سے کوئی رائے نہیں مانگی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے قائد ایوان کے انتخاب اور نہ ہی کسی مالی بل کی منظوری کے معاملے پر پارٹی لائن کی خلاف ورزی نہیں کی۔ سرفرازبگٹی کا کہنا تھا کہ بلوچستان اسمبلی میں مسلم لیگ ق اور ن لیگ کے تمام اراکین ٹیکنوکریٹ کی نشست پر نصیب اللہ بازئی کو ووٹ دیں گے۔
ان کہنا تھا کہ وہ اب بھی مسلم لیگ ن کا حصہ ہے ن لیگ کی مرکزی قیادت اب بھی ہمارے لئے قابل احترام ہیں اگرچہ پارٹی کی مرکزی قیادت نے بلوچستان میں پارلیمانی پارٹی کو کسی بھی فیصلے میں اعتماد میں نہیں لیا۔
اس موقع پر نصیب اللہ بازئی کا کہنا تھا کہ انہوں نے خود وزیراعلیٰ قدوس بزنجو ، سرفرازبگٹی اور دیگر اراکین اسمبلی سے رابطہ کر کے حمایت مانگی انتخابات میں کامیابی کے بعد ہم سب اکٹھے کھڑے ہوں گے جو بھی اس گروپ کا فیصلہ ہو گا بھی ان کے فیصلے مانوں گا۔
اس سے قبل میاں نواز شریف کی جانب سے سینیٹ کے انتخابات کیلئے ٹیکنوکریٹ کی نشست پر نامزد کردہ امیدوار مسلم لیگ ن بلوچستان کے جنرل سیکریٹری نصیب اللہ بازئی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرفراز بگٹی،طاہر محمود،انور الحق کاکڑ اور محمد خان لہڑی سب ہمارے مسلم لیگ کے پرانے ساتھی ہیں۔ ہم نے ساڑھے چار سال اکٹھے جدوجہد کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دوامیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے بعد یں نے وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو ، سرفراز بگٹی، طاہر محمود اور باقی دوستوں سے رابطہ کیا اور مسلم لیگی ہونے کے ناطے ان کی حمایت مانگی۔
ان کا مشکور ہوں کہ انہوں نے فراخدلی اور دلیری کے ساتھ بلوچستان کے موجودہ حالات اور سیاسی صورتحال کے مطابق فیصلہ کیا اور مجھے گلے لگایا۔ نصیب اللہ بازئی سے سوال کیا گیا کہ وہ منتخب ہونے کے بعد میاں نواز شریف کا فیصلہ مانیں گے یا منحرف لیگی ارکان کے گروپ کا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ لیگی ارکان کے گروپ کے ہر فیصلے کو قبول کرینگے۔