|

وقتِ اشاعت :   March 7 – 2018

کوئٹہ: کوئٹہ میں ٹارگٹ کلرز بے قابو ہوگئے۔ ٹارگٹ کلنگ کی ایک اور واردات میں پولیس اہلکار شہید اور ایک زخمی ہوگیا۔جبکہ پولیس نے دستی بم برآمد کرکے دھماکے سے ناکارہ بنادیا۔چار دنوں میں ٹارگٹ کلنگ کی چار وارداتوں میں تین اہلکاروں سمیت چار افراد نشانہ بن چکے ہیں۔ 

پولیس کے مطابق بدھ کی صبح کوئٹہ کے نواحی علاقے ہزارگنجی میں سبزی منڈی کے مین گیٹ پر موجود بکتر بند گاڑی پر نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں پولیس سپاہی قادر بخش موقع پر ہی شہید جبکہ ڈرائیور دولت خان شدید زخمی ہوا۔ زخمی اہلکار دولت خان نے بھی جوابی فائرنگ ی تاہم ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ لاش اور زخمی اہلکار کو بولان میڈیکل ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ 

ڈاکٹر کے مطابق زخمی کو سینے میں دائیں جانب اور دونوں بازوں پر تین گولیاں لگی ہیں تاہم اہلکار کی حالت خطرے سے باہر ہے۔واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ایف سی اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور علاقے کی ناکہ بندی کرکے ملزمان کی تلاش شروع کردی۔ واردات میں دہشتگردوں نے نائن ایم ایم پستول کا استعمال کیا۔

ادھر کوئٹہ کے علاقے جوائنٹ روڈ پر کرد اسٹریٹ میں لیاقت کرد کی رہائشگاہ کے قریب پولیس کو ایک مشکوک پلاسٹک کا تھیلا جس پر علاقے کو خالی کراکر بم ڈسپوزل اسکواڈ کو طلب کیاگیا۔ معائنہ کرنے پر تھیلے سے دستی بم نکلا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کے مطابق دستی بم کا پن نکلا ہوا تھا اور خطرناک حالت میں تھا اس لئے ناکارہ نہیں بنایا جاسکتا تھا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے دستی بم کو محفوظ مقام پر لے جاکر دھماکے سے تباہ کردیا۔ 

دریں اثناء ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ نے ہزار گنجی میں جائے وقوعہ کا دورہ کیا۔ انہوں نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ پولیس کی تین موبائل اور ایک بکتر بند گاڑی ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے سبزی فروشوں کو ہزارہ ٹاؤن سے ہزارگنجی سبزی منڈی پہنچانے کے بعد منڈی کے چار مختلف دروازوں پر تعینات تھی۔ اس دوران مرکزی درازے کے قریب کھڑی بکتر بند گاڑی کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ 

اہلکار طے شدہ طریقہ کار کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بکتر بند گاڑی سے نکل کر ناشتہ کررہے تھے۔ بکتر بند گاڑی کے ڈرائیور بھی دروازہ کھول کر بیٹھا ہوا تھا۔اہلکار بکتر بند گاڑی میں یا پھر گھر میں ہی ناشتہ کرسکتے تھے۔ امن وامان کی موجودہ صورتحال اور خطرناک کے پیش نظر پولیس اہلکاروں کو چوکس رہنا چاہیے ۔ 

یاد رہے کہ چھ مارچ کو کوئٹہ کے علاقے قندھاری بازار میں ٹریفک پولیس کے سب انسپکٹر ، چار مارچ کو کوئٹہ کے علی بھائی روڈ پر ہزارہ برادری کے ایک شخص اور،اسی رات کو سرکی روڈ پر ٹریفک پولیس اہلکار کی ٹارگٹ کلنگ کی گئی۔ 

اس سے قبل 28 فروری کو صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں اسمنگلی روڈ پر ڈی ایس پی حمید اللہ دستی کی گاڑی پر فائرنگ کے نتیجے میں 2 پولیس اہلکار شہید ہو گئے تھے۔ 14 فروری کو بھی کوئٹہ کے علاقے لانگو آباد میں نامعلوم افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں 4ایف سی اہلکار شہید ہوگئے تھے۔

ٹارگٹ کلنگ کی نئی لہر کے بارے میں ڈی آئی جی کوئٹہ پولیس عبدالرزا قچیمہ کا کہنا تھا کہ ہم جنگ کی کیفیت سے گزر رہے ہیں ۔ ہمارے لئے مشکل حالات ہیں لیکن ان حالات سے نکلنا بھی ہم نے خود ہیں۔ پولیس معمول کی پولسنگ کا کام بھی کررہی ہے ۔

ہم امن وامان کی بہتری کیلئے اداروں کا تعاون حاصل کررہے ہیں امید ہے جلددہشتگردی کا خاتمہ کرینگے۔ کچھ علاقوں میں سی سی ٹی وی کیمرے محدود پیمانے پر ایف سی نے لگائے ہیں ۔ دکانداروں نے یقین دہانی کے باوجود کیمرے نہیں لگائے اور علاقے میں کچرا بھی نہیں اٹھایا ۔

ہمارا کام کمیونٹی کی سیکورٹی ہے ہمیں ان کا تعاون بھی چاہیے لیکن کمیونٹی کی جانب سے تعاون نہیں ملر ہا جس کی وجہ سے ہمیں اپنی سیکورٹی کا مسئلہ بھی اب درپیش ہوگیا ہے۔