|

وقتِ اشاعت :   March 11 – 2018

کوئٹہ : بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے سابق اور موجودہ چیئرمینوں نے کہا ہے کہ صوبے سے سیاسی جمود کے خاتمے اور بلوچستان کو بحرانی کیفیت سے نکالنے کیلئے بی ایس او کے سابقہ کیڈرز کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

ایسی ترقی نہیں چاہتے جس سے ہمارے تشخص کوخطراک لاحق ہوسیاسی جماعتوں کے کارکنوں کو ذہنی حوالے سے بانجھ رکھ کرصوبے کے وسائل کولوٹا جارہا ہے ،نفرتوں اور تعصب کی سیاست کے قائل نہیں ،ترقی اور جدوجہد کی سفر کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔

،سردار عطاء اللہ خان مینگل ،میر غوث بخش بزنجو ،نواب اکبر خان بگٹی نے اصولی موقف کو اپنائے رکھا جس کی سزا 78کی قیادت نے زندانوں میں کاٹی ، پارلیمانی طرز سیاست سے ہی ہم اپنے ساحل وسائل قومی شناخت ،ثقافت ، تاریخ ، تہذیب و تمدن کی حفاظت کر پائیں گے ۔

صوبے میں پارلیمانی اور مزاحمتی سیاست کی تاریخ رہی ہے،صوبے میں قیادت کا بحران نہیں تاہم سیاسی جماعتوں کی سیاست غلط خطوط پر استوار ہے،بلوچ نوجوانوں پر سیاست کا دروازے بند کرنے سے صوبے میں پانچواں مسلح جدوجہد کاآغاز ہوا، موجودہ صدی کا مقابلہ حصول علم کے بغیر ممکن نہیں، بلوچ نوجوان سیاسی ونظریاتی طور پر پختہ ہو کر بی ایس او کی سیاسی علمی شعوری جدوجہد کا حصہ بنیں۔ شعوری بنیادوں پر کسی بھی تحریک کو کامیابی سے روکناممکن نہیں ہوتا ۔

ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز معروف شاعرعبدالمجیدگوادری کی یاد میں منعقدہ تقریب سے ڈاکٹر عبدلحئی بلوچ مہیم خان بلوچ ڈاکٹرکہورخان بلوچ ،سعید فیض بلوچ ،واحد بلوچ، منظور بلوچ، خیر جان بلوچ، محراب بلوچ، آصف بلوچ ،خیر بخش بلوچ ،محی الدین بلوچ، عبید بلوچ، جاوید بلوچ، اسلم بلوچ، نذیر بلوچ، گہرام اسلم بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر بی ایس او کے سابق کیڈرز کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان کی ڈیموگریفک تبدیلی کے لئے سیندک معاہدہ میں توسیع اور گوادر میں آبادکاری کی جارہی ہے جو مستقبل میں سانحات کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بے شمار قدرتی وسائل کے مالک چاغی کے عوام کسمپرسی کی زندگی گزاررہے ہیں جبکہ خطے میں معاشی استحکام لانے کا موجب بننے والی گوادر کے باسی پانی سے محروم اکیسویں صدی میں صوبے کے لوگوں کو بنیادی انسانی ضروریات تک میسر نہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ اکیسویویں صدی میں طبقاتی کشمکش میں بلوچستان معاشی بدحالی کا شکار ہے، وسائل پر تسلط سیاسی فیصلوں پر قدغن ہے استحصالی پالیسیوں میں ترقی وخوشحالی کے دعوے محض دکھاوا ہیں موجودہ گٹھن و سخت ماحول میں یہ کون سی ترقی کے ثمرات ہیں جن پر بلوچ قوم کو باور کرایا جارہا ہے ۔

ان کا کہنا تھاکہ طاقتورطبقہ بلوچستان کے سیاسی عمل میں دخل اندازی کرکے غیر جمہوری انداز سے عوام کو ترقی وخوشحالی سے محرو م رکھا گیا ہے ،بی ایس او نے طلباء تنظیم کے تحت اپنی ذمہ داری نبھائی سرزمین تاریخ زبان اورقومی حقوق کا دفاع کیا تعلیم کو ذریعہ نجات اور قلم کو بطورہتھیاراستعمال کیا جس کے باعث بلوچ نوجوانو ں کو تعلیم سے بے دخل کرنے اور تعلیم میں منفی رجحانات کو فروغ دینے کی کوشش کی جارہی ہیں۔ 

بی ایس او نے تعلیم کے ساتھ ظلم و نا انصافیوں کے خلاف جدوجہدکرکے قربانی کے عمل سے تاریخ رقم کرکے بلوچستان کو جدیدسیاسی بدلتے حالات سے ہمہ وقت آگاہ رکھا ہے اور چیلنجزسے نمٹنے کے لئے خود اعتمادی کے ساتھ بڑھنے کا حوصلہ دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ نو آبادیاتی نظام کے خلاف دنیا بھر میں جدوجہد کا آغاہوا ہے ۔ 

ان کا کہنا تھا کہ بی ایس او کے سابقہ کیڈرز کو چاہئے کہ وہ سیاسی جماعتوں کو سائنسی خطوط پر استوار ضابطہ اخلاق فراہم کریں،پچاس سال بعد بی ایس او کی سابقہ اور موجودہ قیادت کا یکجا ہونا ایک مثبت پیغام ہیں جس کی مستقبل میں اچھے اثرات مرتب ہونگے ۔

اب منتظمین کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس طرح کی تقریبات کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھے اور سابقہ قیادت پر مشتمل ایک کونسل تشکیل دیا جائے جو بلوچستان سے سیاسی جمود اور غلط خطوط پر استوار سیاست کا خاتمہ کیا جاسکے ۔

بی ایس او کی سابق اور موجودہ قیادت اس مثبت سوچ پروسیع تر قومی مفاد میں جدوجہد کو بی ایس او شعوری کردار سے حاصل بلوچستان کے لئے دورس گردانتی ہے۔