|

وقتِ اشاعت :   March 16 – 2018

کوئٹہ: بلوچستان ہائی کورٹ نے موجودہ سالانہ ترقیاتی بجٹ (پی ایس ڈی پی ) میں شامل انفرادی نوعیت کے منصوبوں کو نکالنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ ترقیاتی بجٹ وسیع تر عوامی مفاد کے منصوبوں پر خرچ ہونا چاہیے ، انفرادی نوعیت کے منصوبوں کیلئے مختص رقم پانی ، ڈیمز کی تعمیر، صحت ، تعلیم اور دیگر عوامی مفاد کے منصوبوں پر خرچ کی جائے ،انفرادی نوعیت کے منصوبے سیاسی رشوت ، سپریم کورٹ کے فیصلے اور پلاننگ کمیشن کے رولز کے خلاف ورزی ہیں ۔

ارکان اسمبلی اپنے ہی بنائے ہوئے قوانین کی خلاف ورزی کریں تو عدالت ان سے پوچھنے کا حق رکھتی ہے ، مداخلت اور اختیارات چھیننے کاشور مچایا جارہا ہے ، ہم آئین و قانون کے محافظ ہیں، ہمیں جمہوریت کا مخالف سمجھنے والوں کی سوچ غلط ہے ۔

عدالت نے آئندہ مالی سال کے پی ایس ڈی پی میں انفرادی نوعیت کے منصوبوں پر پابندی عائد کرتے ہوئے تمام سیکریٹریز اور انتظامی محکموں کے سربراہان کیلئے لازم قرار دیا کہ وہ بجٹ تجاویز اور منصوبوں کو تجویز کرتے وقت سرٹیفکیٹ جمع کرائیں گے جس میں یہ اقرار کیا جائیگا کہ تجویز کردہ منصوبہ انفرادی نوعیت کا نہیں بلکہ کسی امتیاز کے بغیر وسیع تر عوامی مفادکا منصوبہ ہے ، اگر بعد میں منصوبہ انفرادی نوعیت کا ثابت ہوا تو سرٹیفکیٹ جمع کرانے والے متعلقہ سیکریٹری ذمہ دار ہوگا۔ 

عدالت نے تمام سیکریٹریز کو نئی پی ایس ڈی پی کیلئے تجویز بیس روز کے اندر اندر پی اینڈ ڈی کو جمع کرانے کی ہدایت کی اور آئندہ سماعت پر ایڈیشنل چیف سیکریٹری ترقی و منصوبہ بندی سے نئے مالی سال کے پی ایس ڈی پی سے متعلق رپورٹ طلب کرلی ۔

یہ احکامات بلوچستان ہائی کورٹ کے جج جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس کامران ملاخیل پر مشتمل دو رکنی بنچ نے پی ایس ڈی پی سے متعلق مختلف آئینی درخواستوں کی مشترکہ سماعت کے دوران دیئے۔

سماعت کے دوران صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات عاصم کرد گیلو، وزیراعلیٰ کے مشیر برائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن عبدالکریم نوشیروانی، پشتونخوامیپ کے بلوچستان اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر عبدالرحیم زیارتوال، اے این پی کے رکن بلوچستان اسمبلی زمرک خان اچکزئی ،ایڈیشنل چیف سیکریٹری ترقی و منصوبہ بندی نصیب اللہ بازئی، صوبائی سیکریٹری خزانہ قمر مسعود ،گورنر بلوچستان کے پرنسپل سیکریٹری سجاد احمد،صوبائی سیکریٹری آبپاشی، محکمہ ترقی و منصوبہ بندی، محکمہ خزانہ، محکمہ توانائی، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے حکام اور دیگر متعلقہ حکام کے علاوہ درخواست گزار محمد عالم خان مندوخیل اورمحمد حسین عنقا پیش ہوئے۔ 

بلوچستان بار کے رہنماؤں نصیب اللہ ترین ایڈووکیٹ نے عدالت کی معاونت کی۔ درخواست گزاروں کی جانب سے راحب بلیدی اور جمیل آغا ایڈووکیٹ بھی پیش ہوئے ۔عدالت کو بتایا گیا کہ چیف سیکریٹری صوبے سے باہر ہونے کے باعث پیش نہ ہوسکے۔ درخواست گزار محمد عالم مندوخیل اور دیگر نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ بلوچستان کا سالانہ ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی ) میں اجتماعی نوعیت کے کئی منصوبوں کو نظر انداز کرکے سیاسی بنیادوں پر انفرادی نوعیت اور غیر منظور شدہ منصوبے شامل کئے گئے ہیں ۔

یہ سپریم کورٹ کے راجہ پرویز اشرف، عبدالرحیم زیارتوال اور زمرک خان اچکزئی کیس کے فیصلے اور مصطفی ایمپکس کیس میں دیئے گئے فیصلوں اور گائیڈ لائنز کے ساتھ ساتھ بلوچستان رولز آف بزنس اور پلاننگ کمیشن کے رولز کی خلاف ورزی ہے اس لئے عدالت عالیہ پی ایس ڈی پی سے ان منصوبوں کو نکالیں۔ 

عدالت میں گزشتہ سماعت پر چیف اکنامسٹ محکمہ پی اینڈ ڈی نے تحریری بیان میں اعتراف کیا تھا کہ سالانہ ترقیاتی بجٹ میں انفرادی نوعیت کے منصوبے بھی شامل ہیں ۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ بد قسمتی سے بلوچستان میں قوانین اور قواعد و ضوابط کی پابندی نہ کرنے کی وجہ سے ترقیاتی بجٹ کا درست استعمال نہیں ہورہا جس کی وجہ سے صوبہ پسماندگی کا شکار ہے ۔ ترقیاتی بجٹ میں میں عوام کے وسیع تر مفاد کی بجائے انفرادی نوعیت کے منصوبے بھی شامل کئے جاسکتے ہیں ۔

جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ رکن اسمبلی وزیر بننے کے بعد خود کو صرف اپنے حلقے کا ہی وزیر سمجھتا ہے جو کہ غلط روش ہے۔ جسٹس کامران ملاخیل نے کہا کہ بوستان میں ایک شخص کے ذاتی باغ کیلئے دس کروڑ روپے کے شمسی توانائی کا منصوبہ بھی پی ایس ڈی پی میں شامل ہیں۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہمیں پتہ ہے کہ ایسے منصوبے کس لئے شامل کئے جاتے ہیں۔ 

انفرادی نوعیت کے اس طرح کے منصوبے سیاسی رشوت کے علاوہ کچھ نہیں۔ ہمیں چیف اکنامسٹ پی اینڈ ڈی نے لسٹ فراہم کی ہے کہ پی ایس ڈی پی میں 450انفرادی نوعیت کے منصوبے ہیں۔ ہمارے پاس تصویریں ہیں کہ پانی کی ٹینکیوں پر پارٹی کے جھنڈے بنائے گئے ہیں کیا صرف پارٹی والوں کو ٹینکیاں دی جاتی ہیں۔ 

عدالت نے مٹی کے تالاب اور بلڈزور گھنٹوں کے منصوبوں کو ترقیاتی بجٹ میں شامل کرنے پر بھی اعتراض اٹھایا اور کہا کہ بلڈزور گھنٹے کس قانون کے تحت دیئے جاتے ہیں۔ یہ گند 1985ء سے شروع ہوا ۔ یہ رقم ڈیمز بنانے پر بھی خرچ ہوسکتی تھی۔ جسٹس جمال مندوخیل نے ایڈیشنل چیف سیکریٹری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انفرادی نوعیت کے منصوبے پلاننگ کمیشن کے رولز اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے ہم اس کی کسی صورت اجازت نہیں دے سکتے ۔

ایڈیشنل چیف سیکریٹری نصیب اللہ بازئی نے اعتراف کیا کہ انفرادی نوعیت کے کئی منصوبے پی ایس ڈی پی میں شامل ہیں۔ بجٹ بناتے وقت آخری دن بھی منصوبے لائے جاتے ہیں۔ سرکاری افسران خود کو محفوظ نہیں سمجھتے ۔

وہ نہ صرف ملازمت بلکہ جان سے متعلق بھی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ ان کا بار بار تبادلہ کیا جاتا ہے یا پھر کام کرنے نہیں دیا جاتا۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی کحلی کچہری میں لوگ لائن میں کھڑے ہوتے ہیں جس سے انکی تذلیل ہوتی ہے عوام کے مسائل اس طرح حل نہیں ہوتے ۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ یہ افسوسناک ہیں کہ ارکان اسمبلی افسران کے کمروں میں جاتے ہیں اور انہیں اپنے من پسند منصوبے بجٹ میں شامل کرنے کا کہتے ہیں۔

اس موقع پر صوبائی وزیر عاصم کرد گیلو نے کہا کہ ایسا نہیں ہے۔ کریم نوشیروانی نے کہا کہ اصل حکومت بیورو کریٹس کی ہے ہم تو ڈیلی ویجز ملازمین ہیں۔میرے حلقے کے گیارہ واٹر سپلائی اسکیمیں منظور ہوگئی ہیں لیکن رقم جاری نہیں کی جاری ہے۔اس موقع پر عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ بجٹ سے متعلق فیصلے کا اختیار صوبائی کابینہ کا ہے ، عدالت اس میں مداخلت نہیں کرسکتی۔ 

پارلیمان سپریم ہے اس کے بعد عدالت اور پھر انتظامیہ کی باری آتی ہے۔ پارلیمنٹ سے اختیارات چھینے جارہے ہیں۔ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ آج کل مداخلت اور اختیارات کے تجاوز کا شور مچایا جارہا ہے ۔ آج اس مسئلے کو ختم کردیتے ہیں ۔

آئین کے مطابق پارلیمنٹ قانون بناتی ہے ، انتظامیہ اس پر عملدرآمد کراتی ہے اور اگر کوئی خلاف ورزی کی جائے تو عدالت اس کو روکتی ہے اور آئین و قانون پر عملدرآمد کو یقینی بناتی ہے۔ 

ہم پارلیمنٹ کا احترام کرتے ہیں اور ہم آپ کے ہی بنائے ہوئے قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بناتے ہیں اگر ارکان اسمبلی ہی قوانین کی خلاف ورزی کریں تو ان سے پوچھنے کا عدالت حق رکھتی ہے ۔ اگرارکان اسمبلی اپنے ہی قوانین کی خلاف ورزی کریں تو پھر اختیارات چھیننے اور مداخلت کا شور مچایا جاتاہے۔ 

عبدالرحیم زیارتوال کا کہنا تھا کہ مقننہ کی حیثیت کو تسلیم کیا جانا چاہیے ۔جسٹس جمال مندوخیل نے عبدالرحیم زیارتوال کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ہم جمہوریت کے خلاف ہیں تو آپ غلط ہیں۔ ہم یہاں آئین کے تحفظ کیلئے بیٹھے ہوئے ہیں۔ جسٹس جمال مندوخیل نے مزید کہا کہ ہم ترقیاتی منصوبوں کے مخالف نہیں، ہماری خواہش ہے کہ صوبے کے ہر ضلع اور تحصیل میں بہترین اسکول اور ہسپتال بنے ۔

اس موقع پر عاصم کرد گیلو نے کہا کہ ہم آپ کی یہ خواہش پوری کرینگے۔ حکومت تعلیم اور صحت کے شعبوں پر توجہ دے رہی ہے۔سماعت کے دوران ایڈیشنل چیف سیکریٹری محکمہ ترقی و منصوبہ بندی نصیب اللہ بازئی نے عدالت میں انفرادی اسکیموں کی فہرست جمع کرائی اور بتایا کہ محکمہ ترقی و منصوبندی کے حکام اور بیس رکنی کمیٹی نے پی ایس ڈی پی 2017-18ء کا جائزہ لیا تو 76ایسے منصوبوں کی نشاندہی ہوئی جو انفرادی نوعیت کے تھے جبکہ کئی منصوبے ایسے ہیں۔

جو بلاک ایلوکیشن کے زمرے میں آتے ہیں تاہم بلاک ایلوکیشن کے منصوبوں کی باقاعدہ منظوری اور فنڈز کی ریلیز متعلقہ محکموں سے باقاعدہ پی سی ون کے بعد ہی کی جاتی ہے۔

انہوں نے انفرادی منصوبوں کی مد میں مختص رقم کے متبادل استعمال کیلئے تجاویز بھی دیں اور بتایا کہ یہ رقم ایسی نامکمل اور جاری ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کی جائے جنہیں مکمل ہونے کیلئے صرف20ملین کی ضرورت ہے ۔ اس کے بعد پرانی ترین ایسی اسکیمیں پر رقم خرچ کی جائے جن پر کام60فیصد تک ہوچکا ہے اور وہ باقی کام ادھورا چھوڑ دیا گیا ہے۔

اسی طرح یونیورسٹیوں، ریذیڈنشل ، کیڈیٹ اور ٹیکنیکل کالجز جیسے ادھورے منصوبوں ، کوئٹہ اور پانی کی قلت سے سے دو چار علاقوں میں پانی کے منصوبوں اور ڈیموں کی تعمیر کے نامکمل منصوبوں کی تکمیل پر رقم خرچ کی جائے۔ عدالت نے ان تجاویز سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی بجٹ میں اجتماعی نوعیت اور ایسے منصوبوں کو ترجیح دی جائے جو وسیع تر عوامی مفاد میں ہو۔ 

انفرادی نوعیت کی اسکیمیں ، امبریلا اور غیر منظور شدہ اسکیمیں اوربلاک ایلوکیشن سپریم کورٹ کے فیصلے میں دی گئیں گائیڈ لائنز اور پلاننگ کمیشن کے رولز کی خلاف ورزی ہے۔ بد قسمتی سے حکومت کی جانب سے ان رولز پر سو فیصد عملدرآمد کو یقینی نہیں بنایا گیا اور اس سلسلے میں اٹھائے گئے اقدامات ناکافی ہیں۔ 

حکومت کو ترقیاتی منصوبوں کی تشکیل کے وقت ان قوانین پر عملدرآمد کیلئے تمام تر ممکنہ اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ عدالت نے تمام صوبائی سیکریٹریز اور انتظامی محکموں کے لئے سربراہان کیلئے لازم قرار دیا کہ وہ سالانہ ترقیاتی پروگرام کیلئے منصوبوں کی تجویز کے وقت یہ سرٹیفکیٹ بھی جمع کرائیں گے کہ تجویز کردہ منصوبہ انفرادی نوعیت کا نہیں اور اس کا فائدہ کسی امتیاز کے بغیر عوام کو پہنچے گا۔

اگر اس کے بعد کوئی خلاف ورزی کی جاتی ہے تو پھر اس کا ذمہ دار متعلقہ سیکریٹری ہوگا۔عدالت نے ہدایت کی کہ محکمہ پی اینڈ ڈی اور دیگر مجاز حکام ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کو یقینی بنائیں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ اہداف حاصل کئے جاسکیں۔ 

عدالت نے کہا کہ ہم موجودہ پی ایس ڈی پی پر راستہ نکال رہے ہیں ، ہم آنکھیں بند کررہے ہیں آئندہ پی ایس ڈی پی میں سپریم کورٹ کے فیصلے ،بلوچستان رولز آف بزنس اور پلاننگ کمیشن کے رولز کی خلاف ورزی کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس موقع پر سیکریٹری آبپاشی نے عدالت کو بتایا کہ کوئی پانی کے مسئلے کو ترجیح نہیں دے رہا ۔ اگر صورتحال یہی رہی تو بلوچستان کے کئی علاقوں کے لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوں گے۔ 

انہوں نے تجویز دی کہ بجٹ میں پینے کے پانی کے منصوبوں کو اولیں ترجیح دیں۔ انہوں نے عدالت سے کوئٹہ اور ان علاقوں جہاں پانی کی سطح انتہائی خطرناک حدتک گ رگئی ہے وہاں نئے ٹیوب ویلوں اور زرعی مقصد کیلئے ٹیوب ویلوں کی تنصیب پر مکمل پابندی لگانے کی استدعا کی اور کہا کہ کئی اضلاع کے ڈپٹی کمشنر واٹر بورڈ کی منظوری کے بغیر ٹیوب ویلوں کے اجازت نامے جاری کررہے ہیں۔ 

عدالت نے اس موقع پر حکم دیا کہ کوئٹہ اور پانی کی قلت کے شکار علاقوں میں نئے زرعی ٹیوب ویلوں کی تنصیب اور این او سی کے اجراء پر پابندی لگائی جائے ۔ عدالت کو بتایا کہ سمال اینڈ چیک ڈیمز کے80منصوبے مکمل ہیں اور باقی 20فیصد تکمیل کے مختلف مراحل میں ہیں اگر اس کیلئے باقی ماندہ رقم جلد جاری کی جائے تو یہ منصوبے اس مالی سال میں مکمل کرلئے جائیں گے۔ 

عدالت نے ہدایت کی کہ پانی اور ڈیمز کی تعمیر کے منصوبوں کو اولین ترجیح دی جائے اور ولی تنگی ڈیم سمیت دیگر ڈیموں کے منصوبوں کیلئے مختص رقم فوری جاری کی جائے۔ عدالت نے ایڈیشنل چیف سیکریٹری کو ہدایت کی کہ وہ ان اسکیموں کیلئے قانون کے مطابق فنڈز کے فوری اجراء کو یقینی بنائے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ عدالت یوتھ اینڈ میڈیکل سپورٹ پروگرام پر پابندی لگاچکی ہے ، اس مد میں مختص رقم بھی متذکرہ بالا ہدایات کے تحت عوامی مفاد کے منصوبوں پر خرچ کی جائے۔

گورنر اور وزیراعلیٰ بلوچستان کے صوابیدیدی فنڈز (ایس ڈی آئی )سے متعلق گورنر کے پرنسپل سیکریٹر ی سجاد احمد نے عدالت کو بتایا کہ گورنر اور وزیراعلیٰ بلوچستان صوبے کے مختلف علاقوں کے دورے کرتے ہیں اور ان کے پاس مسائل لیکر آتے ہیں ۔ گورنر اور وزیراعلیٰ ایسی صورتحال میں اعلانات کرتے ہیں اور پھر ان منصوبوں سے متعلق متعلقہ محکمے باقاعدہ پی سی ون بناکر منظوری لیتے ہیں۔


عدالت نے کہا کہ سپریم کورٹ اپنے فیصلے میں کہہ چکی ہے کہ وزیراعظم بھی انفرادی نوعیت کے منصوبوں کیلئے فنڈز مختص نہیں کرسکتے تو گورنر اور وزیراعلیٰ کیسے کرسکتے ہیں۔ عدالت نے ہدایت کی کہ ایس ڈی آئی کے تحت منصوبوں کی بھی متذکورہ بالا ہدایات اور قوانین کو مد نظر رکھتے ہوئے منظوری دی جائے اور انفرادی نوعیت کے منصوبوں پر توجہ نہ دی جائے۔ 

اس موقع پر رکن اسمبلی انجینئر زمرک اچکزئی نے کہاکہ گورنر وفاق کا نمائندہ ہوتا ہے اس کیلئے فنڈز بھی وفاق ہی مختص کرتا ہے پہلی بار ہوا ہے کہ صوبائی حکومت نے ترقیاتی بجٹ میں گورنر کیلئے فنڈز مختص کئے ہیں۔

جسٹس جمال مندوخیل نے گورنر بلوچستان کی جانب سے لاہور اور کوئٹہ کے نجی میڈیکل کالج کیلئے فنڈز کے اعلان پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نجی میڈیکل کالج کو مفت زمین اور مفت بلڈنگ ملی ، ڈاکٹر کو سرکار تنخواہیں دے رہی ہیں لیکن وہ چھ چھ لاکھ روپے فیس لیتی ہے اور گورنر بھی ان کیلئے اعلانات کرتے ہیں ۔

گورنر نے یونیورسٹی آف بلوچستان میں دوٹیوب ویلوں کی تنصیب کا اعلان کیا ہے ، یہ رقم ٹیوب ویل کی بجائے یونیورسٹی سے گزرنے والے گندے پانی کے نالے پر واٹر فلیٹریشن پلانٹ پر خرچ کی جائے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ چیف سیکریٹری بلوچستان کو طلب کیا گیا لیکن بتایا گیا کہ وہ صوبے سے باہر ہونے کی وجہ سے پیش نہیں ہوسکتے ۔ 

چیف سیکریٹری کو طلب کرنے کا مقصد عدالت میں طلب کرنے کا مقصد یہ یقینی بنانا تھا کہ وقت بہت کم رہ گیا ہے ،تمام سیکریٹریز دن رات کام کرکے اپنے متعلقہ محکموں سے متعلق بجٹ تجاویز اور منصوبے پیش کریں ۔عدالت نے تمام سیکریٹریز کو ہدایت کی کہ وہ ترقیاتی منصوبوں سے متعلق بجٹ تجاویز بیس دن کے اندر محکمہ ترقی و منصوبہ بندی کو پیش کریں ۔

عدالت نے چیف سیکریٹری ترقی و منصوبہ بندی کو ہدایت کی کہ وہ نئی پی ایس ڈی پی کا کام فوری شروع کریں اور اس میں پانی، صحت ، تعلیم ، توانائی اور پیداواری شعبوں سمیت مفاد عامہ کے منصوبوں کو ترجیح دیں۔ شمسی توانائی کے منصوبوں میں بھی ان علاقوں کو ترجیح دی جائے جو بجلی سے محروم ہیں اور جہاں مستقبل قریب میں کیسکو کے ذریعے بجلی پہنچانے کا امکان نہیں۔ 

عدالت کو بتایا گیا کہ پی ایس ڈی پی کی آٹومیشن کیلئے ورلڈ بینک نے بلوچستان حکومت کو فنڈز دیئے ہیں۔ عدالت نے ایڈیشنل چیف سیکریٹری کو ہدایت کی کہ ا س منصوبے پر جلد سے جلد عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے عدالت میں پیش ہونے والے عوامی نمائندوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بھی انفرادی منصوبوں کو ترجیح نہ دینے پر اتفاق کیا ۔ 

عدالت نے محکمہ ترقی و منصوبہ بندی کو ہدایت کی کہ وہ قوانین کے اندر رہتے ہوئے نئے مالی سال کے پی ایس ڈی پی بناتے وقت عوامی نمائندوں کو اعتماد میں لیں۔ عدالت نے کہا کہ عوامی نمائندے خود کو ایک حلقے کی بجائے پورے صوبے کا نمائندہ سمجھیں ۔عدالت نے کہا کہ بد قسمتی سے سرکاری افسران غیر یقینی صورتحال اور غیر محفوظ ماحول میں کام کررہے ہیں۔ 

یہ انیتا تراب کیس میں سپریم کورٹ کے طے شدہ اصولوں اور آئین کی شق 189کی خلاف ورزی ہے۔حکومت سپریم کورٹ کے حکم کی پابندی کرتے ہوئے سرکاری افسران کے تقرر و تبادلوں میں قانون اور قواعد و ضوابط کی پابندی کو یقینی بنائے۔ عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کو ہدایت کی کہو ہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی نقول چیف سیکریٹری اور سیکریٹری ایس اینڈ جی اے ڈی کو فراہم کریں ۔ عدالت نے حکومت کو یہ بھی ہدایت کی کہ غیر ترقیاتی اخراجات کم سے کم کریں تاکہ ترقیاتی بجٹ میں اضافہ ہوسکیں۔

عدالت نے کہا کہ گورنر اور وزیراعلیٰ کے ایس ڈی آئی پر ہم نے اعتراض اٹھادیا ۔سیکریٹریز کے لئے خصوصی بجٹ کیوں مختص ہیں۔ ایڈیشنل چیف سیکریٹری اور سیکریٹری خزانہ نے لاعلمی کا اظہار کیا تو جسٹس جمال مندوخیل نے بتایا کہ ڈی پی جی آر کے پاس اسپیشل فنڈز کیوں ہوتے ہیں۔ 

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہمارے پاس نیب کی جانب سے بد عنوانی کے نوے فیصد کیسز محکمہ خوراک کے آتے ہیں۔ چینی اور خوراک کی دیگر اشیاء کی طرح گندم کو بھی اوپن مارکیٹ سے کیوں نہیں خریدا جاتا ۔ اس موقع پر جسٹس کامران ملاخیل نے کہا کہ بڑے بڑے لوگوں کو فائدہ پہنچانے کیلئے ایسا کیا جاتا ہے۔ ایڈیشنل چیف سیکریٹری کو آئندہ سماعت پر نئی پی ایس ڈی پی سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔