|

وقتِ اشاعت :   March 19 – 2018

کوئٹہ: چیئرمین سینیٹ سردار محمد صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ ان کے بطور چیئرمین سینیٹ انتخاب میں غیر سیاسی قوتوں یا اسٹیبلشمنٹ کا کوئی کردار نہیں ،آصف علی زرداری، عمران خان ،فاٹا اراکین اور دیگر کی حمایت سے ووٹوں کے ذریعے انتخاب ہوا، مخالفین کے ایسے الزامات صرف سیاست ہے۔ 

اتوار کو چیئرمین سینیٹ منتخب ہونے کے بعد پہلی بار کوئٹہ آمد کے موقع پر اپنی رہائشگاہ پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے سردار صادق سنجرانی کا کہنا تھا کہ یہ نہ صرف ان کیلئے بلکہ پورے بلوچستان کیلئے باعث فخر اور اعزاز ہے کہ پہلی دفعہ چیئرمین سینیٹ کا انتخاب بلوچستان سے ہوا ہے ۔

یہ عہدہ آئینی ہے اور اللہ تعالیٰ کی مہربانی ،آصف زرداری ، عمران خان، فاٹا اراکین کی حمایت اور وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کی سربراہی میں بلوچستان کے آزاد سینیٹرز کی دن رات محنت سے کامیابی حاصل ہوئی۔ 

بلوچستان اسمبلی کے اراکین کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ہمیں منتخب کرکے سینیٹ بھیجا جہاں ہمیں کھلے دل سے قبول کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان سے چیئرمین سینیٹ کا انتخاب ملک کیلئے بھی بہتر ہے ، یہ ملک ہے تو سب کچھ ہے ۔ 

صادق سنجرانی کا کہنا تھا کہ ہمارا شروع سے ہی یہ مؤقف تھا اور آج بھی ہے کہ چیئرمین سینیٹ کا انتخاب روٹیشن کی بنیاد پر ہونا چاہیے یعنی باری باری ہر صوبے سے انتخاب ہوکیونکہ یہ ایوان آبادی نہیں بلکہ برابری کی بنیاد پر ہے۔ ہماری ابھی بھی کوشش ہے کہ سینیٹ سے اس اس بابت قانون منظور کرائے ۔

پیپلز پارٹی میں شمولیت سے متعلق سوال پر چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ آصف زرداری سے ملاقات کرکے ان کا شکریہ ادا کیا ۔ بلوچستان سے منتخب چھ کے چھ آزاد سینیٹر آزاد حیثیت سے ہی رہیں گے ۔

صادق سنجرانی کا کہنا تھا کہ ان کے انتخاب سے متعلق اسٹیبلشمنٹ یا کسی اور کے کردار سے متعلق سیاسی مخالفین کے الزامات محض سیاسی الزامات ہیں ۔ اس میں کوئی حقیقت نہیں ۔ سینیٹ کا انتخاب شافف طریقے سے ہوا ، تمام ارکان نے سب کے سامنے ووٹ دیئے۔ 

عمران خان اور آصف زرداری خود ہمارے پاس تشریف لائے اور ہماری حمایت کی، فاٹا اراکین اور باقی سب نے ہمارا ساتھ دیا اورکامیابی ووٹوں کے ذریعے ہی ملی ، سب کچھ واضح اور سب کے سامنے تھا پھر اس طرح کی باتیں سیاسی الزام کے سوا کچھ نہیں۔

صادق سنجرانی کا کہنا تھاکہ ان کا چیئرمین سینیٹ منتخب ہونا ٹیم ورک کا نتیجہ ہے ، پہلے سینیٹ میں ہم 6 تھے اب 57 ہیں ۔نواز شریف کی جانب سے انہیں غیر سیاسی شخصیت کہنے سے متعلق سوال پر چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ نواز شریف ہمارے بزرگ اور پاکستان کے ایک بڑے سیاسی رہنماء ہیں وہ جو کچھ چاہے کہہ سکتے ہیں ۔ 

سیاسی ہوں یا نہیں یہ بطور چیئرمین سینیٹ میرا کردار ہی بتائے گا۔ انہوں نے سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کی جانب سے سینیٹ کی بہتری کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کو جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کی طرح غیر جانبداری کی روایت کو برقرار رکھیں گے۔

سیاسی ہمدردی سے متعلق سوال پر صادق سنجرانی کا کہنا تھا کہ ان کی ہمدردی بلوچستان کے لوگوں اور پاکستان کے ساتھ ہیں ، تمام سیاسی جماعتیں ان کیلئے برابر ہیں کیونکہ چیئرمین سینیٹ کا عہدہ آئینی ہے اس لئے سب کو برابر ی کی نظر سے دیکھیں گے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ میں بلوچستان کے مفادات کے تحفظ کیلئے قانون سازی کریں گے ، وفاق کو جہاں ضرورت پڑے گی ہم ان کی معاونت کرینگے، سی پیک اور دیگر تمام حوالوں سے ضروریات کے مطابق کام کرینگے ۔ ہماری کوشش ہوگی کہ محکمہ خزانہ، ترقی و منصوبہ بندی اور دیگر محکموں سے بجٹ لیکر بلوچستان کو دیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ آئندہ عام انتخابات میں عبدالقدوس بزنجو کی سربراہی میں قائم اتحاد ہی کامیابی حاصل کرے گا۔ ہمیں سوچ بلند رکھنی چاہیے ،وزیراعظم کا عہدہ بھی بلوچستان کو ملنا چاہیے۔

صادق سنجرانی کا کہنا تھا کہ چیئرمین سینیٹ منتخب ہونے کے لئے سینیٹر اور عمر تیس سال ہونا ضروری ہے اوران یہ تمام شرائط پوری کرلی ہیں اورکوئی آئینی رکاوٹ نہیں۔