کوئٹہ : بلو چستان اسمبلی میں کو رم کا مسئلہ ،اجلاس ایک مرتبہ پھر شروع ہو تے ہی چند منٹوں بعد24ما رچ تک ملتوی کر دیا گیا اپوزیشن اراکین کا کہنا تھا کہ حکومتی اراکین اسمبلی کی کا رروائی میں کو ئی دلچسپی نہیں لیتے اور نہ ہی ان کے پا س کو ئی اکثریت مو جو د ہے ۔
گزشتہ روز بلوچستان اسمبلی کا اجلاس پینل آف چیئرمین کی رکن شاہدہ روف کی صدارت میں آدھا گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا تو اجلاس کی کا رروائی شروع ہوتے ہی کورم کی نشا ند ہی کی گئی جبکہ پینل آف چیئرمین کے رکن شاہدہ روف اجلاس کے آغاز پر رولنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وقفہ سوالات کے آغاز پر ایک معزز رکن کی جانب سے کورم کی نشا ند ہی پر پانچ منٹ گھنٹیاں بجانے کے بعد کورم پورا نہیں ہوا جس کے بعد اجلاس کو 24 مارچ بروز ہفتہ سہ پہر تین بجے تک ملتوی کر دیا گیا ۔
اسمبلی اجلاس متوی ہو نے کے بعد بلوچستان اسمبلی کے اپوزیشن چیمبر میں اپوزیشن اراکین ڈاکٹر حامد خان اچکزئی، سردار اسلم بزنجو، رحمت صالح بلوچ، سردار مصطفی خان ترین، عبیداللہ بابت، سید لیاقت آغا، نصر اللہ زیرے، حاجی اسلام بلوچ، ڈاکٹر شمع اسحاق، میر خالد لانگو، ہاسمین لہڑی،سپوژمئی بی بی ،عارفہ صدیق، معصومہ حیات نے مشترکہ پریس کانفرنس کی ۔
جس کے دوران اپوزیشن رکن سردار اسلم بزنجو نے کہا ہے کہ حکومتی اراکین اسمبلی اجلاس چلانے میں دلچسپی نہیں رکھتے صوبائی وزراء اور ان کے حمایتی ارکان اسمبلی اجلاس سے نالاں ہے ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت کے پاس اکثریت نہیں رہی موجودہ حکومت غیر آئینی اور غیر جمہوری طریقے سے چل رہی ہے۔
اکثریت اپوزیشن کیساتھ23 اراکین اسمبلی ہیں جبکہ 13 ارکان سابقہ اپوزیشن لیڈر کیساتھ ہے اس طرح اپوزیشن کے36 ارکان بنتے ہیں اس لئے حکمران اکثریت شو نہیں کر سکتے بلکہ حکومتی ارکان کی عدم حاضری کے باعث اسمبلی میں قانون سازی بھی نہیں ہو رہی ۔
اپوزیشن رکن سردار مصطفی خان ترین نے کہا ہے کہ ہمیں اسمبلی توڑنے کا شوق نہیں کورم پورا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اسمبلی اجلاس میں بیورو کریسی آنا گوارہ نہیں کر تی صوبے کے قائد ایوان سمیت بیورو کریسی صوبے سے باہر ہے اور موجودہ حکومت نے بازار گرم کر رکھا ہے پرائیویٹ لوگ محکمے چلا رہے ہیں ۔
پی اینڈ ڈی اورمحکمہ خزانہ میں ایک منصوبے کے تحت سودا بازیاں ہو رہی ہے اور عوامی مسائل پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی کھلی کچہری کا انعقاد کر کے عوام کو دھوکہ دیا جا رہا ہے جو اسکیمیں منظور ہے ان کے لئے فنڈز جاری نہیں کئے جا رہے ۔
رحمت صالح بلوچ نے کہا ہے کہ حکومت اعتماد کھو چکی ہے جو اپوزیشن میں ہے وہ حکومتی امور چلا رہے ہیں جو حقیقی طور پر حکومت میں ہے وہ لوٹ مار اور کرپشن میں مصروف ہے بلوچستان کے ساتھ جو مذاق ہو رہا ہے اب اس مذاق کو ختم کرنا چا ہئے پوسٹوں کی خرید وفروخت جاری ہے ۔
ہمارے دور میں بھی تنقید ہوئی تو ہم نے تنقید کا جواب مثبت انداز میں دیا اور حالات کا مقابلہ کیا اور موجودہ حکومت میں حکومتی اراکین کو ذمہ داریوں کو احساس ہی نہیں ہے اور ان کو حکومت میں زبردستی لایا گیا ہے کورم پورا نہ کر نا حکومت نے عدم اعتماد کھو چکی ہے گزشتہ چار سالوں سے جو کوششیں ہم کر رہے تھے کہ بلوچستان کو صحیح ٹریک پر لایا جائے مگر پی اینڈ ڈی کوپرائیویٹ لو گوں کے حوالے کر کے مختلف قسم کے کمیشن وصول کئے جا رہے ہیں ۔
بلوچستان کو تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں یہ مستقبل میں خطرناک ثابت ہو سکتی ہے ٹرانسفر پوسٹنگ پر ریٹ فکس ہے اگر یہی صورتحال رہی تو ہم سخت احتجاج کرنے پر مجبور ہونگے۔
اپوزیشن رکن ڈاکٹر حامد اچکزئی نے کہا ہے کہ ہمیں صوبے کی عزت بچانی ہے جس طرح اقلیت حکومت صوبے میں ہے اس طرح حکومتیں نہیں چلایا جاتی عزت، شرافت اور جمہوریت صرف دو ہی پارٹیاں کا وطیرہ رہا صوبے میں غیر جمہوری حکومت ہے ایک ہی قوت تھی جنہوں نے جمہوری حکومت کے خلاف عدم اعتماد پر مجبور کیا ۔
سینیٹ انتخابات میں اکٹھے کئے اب وہ قوت تو اسمبلی اجلاس میں ان کی تعداد پوری نہیں کر رہے جمہوریت کیساتھ مذاق ہے اپوزیشن رکن نصر اللہ زیرے نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت اخلاقی طور پر ختم ہو چکی ہے ۔
سازش کے تحت صوبے کو 20 سال پیچھے دھکیلا گیا اور انہیں کے دور میں موجودہ اراکین کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے یہ جمہوری طریقہ نہیں ہے ہم اپوزیشن کا کردار ادا کر یں گے ہر اجلاس میں جائینگے مگر وہاں پر بحیثیت اپوزیشن احتجاج کرینگے ۔
اپوزیشن رکن سید لیاقت آغا نے کہا ہے کہ ریکوڈک کیس پر سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے صحیح معنوں میں صوبے کی ترجمانی کی موجودہ وزیراعلیٰ ریکوڈک کا سودا کرنے امریکہ گئے ہیں اور متعلقہ وزیر کو بھی ساتھ نہیں لئے گئے اور غیر متعلقہ افراد کو ساتھ لے کر گئے ہیں اپوزیشن اس پر خاموش نہیں ر ہیں گے ۔
بلوچستان حکومت کے پاس اکثریت نہیں رہی اعتماد کا ووٹ حاصل کرے، اپوزیشن کا مطالبہ
![]()
وقتِ اشاعت : March 23 – 2018