|

وقتِ اشاعت :   March 29 – 2018

کوئٹہ: بلوچستان میں نئی سیاسی جماعت کے اعلان سے متعلق بلائی گئی پریس کانفرنس مسلسل دو بار ملتوی کرنے پر سیاسی حلقوں میں چہ میگوئیاں شروع ہوگئیں۔سینیٹر انوار الحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ نئی سیاسی جماعت اور عبوری قیادت کیلئے عہدیداروں کا اعلان آج گیارہ بجے پریس کانفرنس میں کیا جائیگا۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ اور محکمہ تعلقات عامہ کی جانب سے کوئٹہ میں میڈیا کے نمائندوں کو دوپہر تین بجے پریس کانفرنس کیلئے وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ بلایا گیاتاہم وزیراعلیٰ کی اسلام آباد سے آمد میں تاخیر کے باعث پریس کانفرنس پانچ بجے تک ملتوی کی گئی۔ پانچ بجے سے پہلے ہی دوبارہ اطلاع دی گئی کہ پریس کانفرنس ملتوی کردی گئی ہے۔

وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ میں موجود سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ نئی سیاسی جماعت کا اعلان اب جمعرا ت کی صبح گیارہ بجے پریس کانفرنس میں کیا جائیگا۔ پریس کانفرنس بار بار ملتوی ہونے پر سیاسی اور صحافتی حلقوں میں بھی چہ میگوئیاں شروع ہوگئیں۔

ایسی خبریں بھی سامنے آئیں کہ مسلم لیگ ق سے تعلق رکھنے والے وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس اور مسلم لیگ ق بلوچستان کے صدر جعفر مندوخیل پارٹی نے اعلان کیلئے بلائی جانیوالی پریس کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس پر نئی سیاسی جماعت میں شمولیت کیلئے آمادگی ظاہر کرنیوالے ہم خیال ارکان نے تحفظات کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ عبدالقدو س بزنجو اور جعفرمندوخیل کی عدم موجودگی میں وہ پریس کانفرنس میں شرکت نہیں کرینگے۔

تاہم وزیراعلیٰ بلوچستان کے قریبی حلقوں نے تاثر کو مسترد کیا ہے اور بتایا کہ نئی سیاسی جماعت کا اعلان خود وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کرینگے۔اس سلسلے میں حتمی مشاورت کرلی گئی ہے ۔پریس کانفرنس میں نئی سیاسی جماعت کے نام اور عارضی قیادت کیلئے عہدیداروں کا اعلان بھی کیا جائیگا۔

بلوچستان عوامی پارٹی یا متحدہ مسلم لیگ بلوچستان کے نام سے اس جماعت میں بلوچستان سے نومنتخؓ پانچ آزاد سینیٹرز ،مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت سے بغاوت کرنے والے اراکین اور ق لیگ سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے بیس سے زائد صوبائی وزراء اور ارکان اسمبلی نئی سیاسی جماعت میں شمولیت کا اعلان کرینگے۔

پشتونخوامیپ کے باغی رکن اور نا اہل قرار دیئے گئے بلوچستان اسمبلی کے سابق رکن منظور کاکڑ بھی نئی سیاسی جماعت کا حصہ بنیں گے۔بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ق بلوچستان کے صدر جعفرمندوخیل ، وفاقی وزیر مملکت جام کمال کی ہمدردیاں بھی اگرچہ نئی سیاسی جماعت کے ساتھ ہیں تاہم وہ فوری طور پر نئی سیاسی جماعت کا حصہ نہیں بننا چاہتے ۔سابق وزیراعلیٰ نواب ذوالفقار علی مگسی سے متعلق بھی اطلاعات یہ سامنے آرہی ہیں کہ انہوں نے اہم شخصیات پر مبنی نئی سیاسی جماعت میں شمولیت سے انکار کردیا ہے۔