|

وقتِ اشاعت :   April 2 – 2018

کوئٹہ:  کوئٹہ پریس کلب میں بلوچی ادبی اکیڈمی کی جانب سے مصنف، سینئر صحافی صدیق بلوچ کی یاد میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا.

ریفرنس سے وزیراعلیٰ بلوچستان نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ لالہ صدیق بلوچ کی بلوچستان کیلئے جدوجہد ناقابل فراموش ہیں، صدیق بلوچ کا خلاء پُر نہیں کیاجاسکتا۔

لالہ صدیق بلوچ نے مشکل حالات میں بلوچستان کے حقوق کی جنگ لڑی امید ہے کہ ان کی جدوجہد کو اب ان کے ساتھی وفرزندآگے بڑھائیں گے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو کا کہنا تھا کہ لالہ صدیق بلوچ کو ایک استاد اور رہنماء کی طرح پایا گوکہ میری ملاقات ان سے کم ہوئی اور مگر جب بھی ان سے ملاقات ہوتی تو ان میں ایک عظیم انسان کو دیکھتا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہاکہ لالہ صدیق بلوچ نے جس طرح بلوچستان کے حقوق کیلئے آواز بلند کی اس کی نظیر نہیں ملتی ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہاکہ صدیق بلوچ بڑی شخصیت کے مالک تھے جس نے بلوچستان کیلئے بے شمار خدمات سر انجام دیں۔

ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کوئٹہ پریس کلب کے صدر رضا الرحمان نے کہا کہ صدیق بلوچ نے ہمیشہ ہماری رہنمائی کی ایک استاد کے ساتھ اچھے دوست بھی تھے، انہوں نے کہا کہ صدیق بلوچ کی جدوجہد ہمارے لئے مشعل راہ ہے، آج بدقسمتی سے صحافت تجارت بن چکی ہے،ماضی کی صحافت میں عوامی نمائندگی نمایاں تھی۔

رضا الرحمن نے کہا کہ جلد ہم پریس کلب میں لالہ صدیق بلوچ کے نام سے اکیڈمی بنارہے ہیں کیونکہ ہم اپنے ہیروز کو آنے والی نسل سے متعارف کرانا چاہتے ہیں تاکہ وہ یہاں کے عظیم ہستیوں کی راہ پر چلتے ہوئے بلوچستان کی خدمت کرسکیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حقوق کیلئے صدیق بلوچ نے وفاق کی ناروا پالیسیوں کے خلاف اپنا بھرپور کردار ادا کیا، نامور ادیب و مصنف منیر احمد بادینی کا کہنا تھا کہ صدیق بلوچ ایک عملی شخصیت کے مالک تھے ۔

انہوں نے مشکل حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جب بلوچستان میں سیاست مشکل تھی اس دوران صدیق بلوچ بہت متحرک سیاسی کارکن کی طرح جدوجہد میں مصروف عمل رہے، انہوں نے کہا کہ صدیق بلوچ، ذوالفقار علی بھٹو، میر غوث بخش بزنجو جیسے عظیم انسان ایک الگ ہی کشش تھی، صدیق بلوچ دو شخصیات سے زیادہ متاثر تھے ایک میر غوث بخش بزنجو اور دوسرے گل خان نصیر خان تھے۔

صدیق بلوچ نے مجھ سے کہا تھا کہ میر غوث بخش بزنجو کی ذہانت اور گل خان کے علم نے مجھے بے حد متاثر کیا، انہوں نے کہا کہ صدیق بلوچ بلوچستان کے کیلئے پابند سلال رہے،ہصدیق بلوچ کی سیاسی و صحافتی خدمات تاریخ کا حصہ ہیں جسے کبھی نہیں بھلایا جاسکتا۔

سابق صدر کوئٹہ پریس کلب سینئر صحافی شہزادہ ذوالفقار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صدیق بلوچ نے بلوچستان کے حقوق کیلئے سیاسی وصحافتی حوالے سے اپنا بھرپور کردار ادا کیا،صدیق بلوچ آخر دم تک اپنے فرائض سرانجام دیتے رہے جس کی مثال اس طرح دی جاسکتی ہے کہ وہ اخبارات کے مالک ہونے کے باوجود نہ صرف لکھتے رہے بلکہ خود اخبار کی برائے راست آفس میں بیٹھ کر اخبار کی نگرانی کرتے رہے کیونکہ بہت کم اخبار مدیران اس طرح اپنا مکمل وقت اخبار کیلئے وقف کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صدیق بلوچ کے اخبارات بلوچستان کی ترجمانی کرتے رہے، صدیق بلوچ سمیت بزرگ صحافیوں نے ایمانداری سے اپنا کردار ادا کیا۔تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلوچی ادبی اکیڈمی کے صدر عبدالواحد بندیگ نے کہا کہ صدیق بلوچ ایک جمہوریت پسند انسان تھے۔

بلوچستان کو صوبہ کا درجہ دینے کیلئے صدیق بلوچ کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں، عبدالواحد بندیگ بلوچ نے کہا کہ صدیق بلوچ نے ہمیشہ بلوچستان کے حقوق کیلئے آواز بلند کی ایسی شخصیات کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائینگی۔

پریس کلب کے سیکرٹری جنرل سینئر صحافی خالق رند کا کہنا تھا کہ لالہ صدیق بلوچ نے ہمیشہ جونیئر صحافیوں کی حوصلہ افزائی کی اور ہر وقت ان کی رہنمائی کرتے، انہوں نے کہا کہ لالہ صدیق بلوچ کی بلوچستان کے حوالے سے خدمات تاریخ کا حصہ رہینگی ۔

ریفرنس سے صدیق بلوچ کے فرزند صادق بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرے والد سیاسی پیشنگوئی کیا کرتے تھے اکثر ان کے دوستوں کے کال آتے اور ان سے مستقبل کے سیاسی حالات کے متعلق پوچھتے، انہوں نے کہا کہ میرے والد نے اپنی حیات کے دوران آخری کتاب لکھا جو 80 فیصد مکمل ہوچکا اس پر ہم کام کررہے ہیں جلد کتاب کو تین زبانوں بلوچی، اردو اور انگریزی میں اشاعت کرینگے۔

صادق بلوچ نے کہا کہ والد کی جدوجہد کو آگے بڑھائینگے۔دریں اثناء زیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بلوچستان میں دہشتگردی سے صحافتی برادری بھی بے حد متاثر ہوئے میں نے سیاست کے مختلف ادوار دیکھے ہیں۔

بلوچستان میں اپنے مفادات کیلئے ہمیشہ قوم پرستی کی بنیاد پر جماعتیں بنائی گئیں،حکومتی تبدیلی کوبھی سازش قرار دیا گیا مگر ہم نے ثابت کیا کہ تبدیلی صوبے کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے لائی، سینیٹ انتخابات رکوانے کی سازش کا الزام لگا جووقت نے غلط ثابت کردیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہاکہ پہلے بلوچستان کے فیصلے اسلام، لاہور اور مری میں ہوتے تھے یہی شکوہ تھاکہ صوبوں کے فیصلے صوبوں کے اندر ہونے چاہئے،سینیٹ الیکشن میں بلوچستان ہاوس اسلام آباد سیاست کا مرکز بنارہا ،چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں تحریک انصاف نے ہمارا ساتھ دیاجبکہ پیپلزپارٹی نے اکثریت کے باوجود بلوچستان کو موقع فراہم کیا پیپلزپارٹی نے ہمیشہ چھوٹے صوبوں کو حقوق دلانے میں اپنا بھرپورکردار ادا کیا ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہاکہ نئی سیاسی جماعت کا فیصلہ اس لئے کیا گیا کہ بلوچستان کے فیصلے صوبے کے منتخب نمائندے کریں اور متحد ہوکر بلوچستان کے حقوق کی جنگ لڑیں ہم آئین پاکستان کے تحت بلوچستان کے حقوق حاصل کریں گے۔میرعبدالقدوس بزنجو نے کہاکہ باہر بیٹھے لوگوں سے کہتا ہوں کہ اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے لوٹ آئیں قومی دھارے میں آکر ملک و صوبے کی ترقی میں حصہ ڈالیں، صوبے میں دہشتگردی کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔