|

وقتِ اشاعت :   April 8 – 2018

اسلام آباد: صدرمملکت ممنون حسین نے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے آرڈیننس کی منظوری دے دی۔

اسکیم کے تحت 2 فیصد ٹیکس دے کر بیرون ملک سے جتنے چاہیں پیسے پاکستان لائے جا سکیں گے جبکہ ایک لاکھ روپے ماہانہ آمدنی پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا۔

 وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے 5 اپریل کو ٹیکس اصلاحات اور ایمنسٹی اسکیم کا اعلان کیا تھا جس کے تحت 12 سے 24 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر 5 فیصد ، 24 سے 48  لاکھ روپے سالانہ پر 10 فیصد اور 48 لاکھ سے زائد سالانہ آمدن پر 15 فیصد ٹیکس دینا ہوگا۔

ٹیکس ایمنیسٹی اسکیم 30 جون تک جاری رہے گی ، سیاسی افراد اور ان کے ماتحت ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ حاصل نہیں کرسکیں گے۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا تھا کہ ٹیکس اصلاحات کا نفاذ صدارتی آرڈیننس کے ذریعے کیا جائے گا جس کی منظوری اب صدر ممنون حسین نے دے دی ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ ایمنسٹی اسکیم کسی ایک شخص کے لیے نہیں بلکہ ہر اس شخص کے لیے ہے جو پاکستان کا شناختی کارڈ رکھتا ہے تاہم ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے سیاسی لوگ، ان کے زیر کفالت افراد اور سرکاری ملازمین فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آف شور کمپنی اثاثہ ہے اسے بھی ظاہر کرنا چاہیے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ ٹیکس ادا نہیں کریں گے ان کے خلاف ڈیٹا بیس استعمال کیا جائے گا اور ٹیکس نادہندہان کے خلاف کارروائی بھی ہو گی۔

وزیراعظم پاکستان نے خبردار کیا تھا کہ اگر کسی نے جائیداد کی ڈیکلیئرڈ ویلیو مارکیٹ ویلیو کے برابر ظاہر نہیں کی تو حکومت اُس کی دگنی رقم سے خریدنے کا حق محفوظ رکھے گی۔