کوئٹہ: پنجاب اور سندھ میں عوامی مسائل پر از خود نوٹسز کے بعد چیف جسٹس سپریم کورٹ نے بلوچستان کا رخ کرلیا۔ جسٹس میاں ثاقب نثار نے صوبے کے سرکاری ہسپتالوں، سکولوں ، کالجوں اور پانی کی قلت سمیت پینے کے پانی کے مسائل پر از خود نوٹسز لے لیا۔ آج اور کل سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میں سماعت کرینگے۔
چیف سیکریٹری بلوچستان،ایڈووکیٹ جنرل ،سیکریٹری تعلیم، صحت، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اور سیکریٹری آبپاشی سمیت کوئٹہ کے تمام سرکاری ہسپتالوں کے سربراہان کو عدالت میں طلب کرکے تفصیلی رپورٹ مانگ لی۔
تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس سپریم کورٹ میاں ثاقب نثار ،جسٹس آصف سعید خان کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے چار الگ الگ بنچز پانچ روز تک سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میں مختلف مقدمات کی سماعت کرینگے۔
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس منصور علی شاہ پر مشتمل سپریم کورٹ کا تین رکنی بنچ آج بروز پیر صبح نو بجے کوئٹہ رجسٹری میں دیگر مقدمات کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے سرکاری ہسپتالوں، اسکولوں اور پانی کی صورتحال پر لئے گئے از خود نوٹسز کی سماعت بھی کرینگے۔
چیف جسٹس سپریم کورٹ نے از خود نوٹس کیس میں چیف سیکریٹری بلوچستان ،صوبائی سیکریٹری صحت، سول ہسپتال، بولان میڈیکل ہسپتال، فاطمہ جناح ٹی بی ہسپتال اور بینظیر ہسپتال سمیت کوئٹہ کے گیارہ ہسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے تمام سرکاری ہسپتالوں میں دستیاب وسائل اور مشنری کی رپورٹ طلب کی ہے۔
عدالت نے مذکورہ بالا حکام کو ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہوکر ہسپتالوں میں موجود وینٹی لیٹر، آکسیجن، انکیوبیٹر، انجیوگرافی مشینز، سی ٹی سکین، ایم آر آئی، آپریشن تھیٹرزاور ایمبولنسز سمیت تمام دستیاب وسائل اور مشنری ، ہسپتالوں میں تعینات ڈاکٹر، نرسنگ اسٹاف سمیت تمام عملے سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
چیف جسٹس نے ہسپتالوں میں موجود جان بچانے والی ادویات، مریضوں کو مفت فراہم کی جانیوالی ادویات اور محکمہ صحت سے مارکیٹ سے ادویات کی خریداری سے متعلق رپورٹ بھی مانگی ہے۔
دوسرے از خود نوٹس میں چیف جسٹس سپریم کورٹ نے چیف سیکریٹری بلوچستان، صوبائی سیکریٹری ہائیر ایجوکیشن، صوبائی سیکریٹری سیکنڈری ایجوکیشن کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ عدالت میں پیش ہوکر پرائمری اسکول سے لیکر کالجز تک تمام سرکاری تعلیمی اداروں کی حالت زار سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے اور عدالت کو بتایا جائے کہ صوبے کے کتنے اسکول اور کالجز چار دیواری، پانی، بجلی اور دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
عدالت نے اسکولوں اور کالجوں میں تعینات اساتذہ اور عملے اور زیر تعلیم طلباء کی تفصیلات بھی مانگی ہیں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے بلوچستان بالخصوص کوئٹہ میں پانی کی قلت ، پینے کے پانی کی عدم دستیابی، زیرزمین پانی کی تیزی سے گرتی ہوئی سطح پر بھی از خود نوٹس لیا ہے اور سیکریٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ بلوچستان، سیکریٹری محکمہ آبپاشی ، واسا حکام کو بھی نوٹسز جاری کردیئے۔
عدالت نے انہیں پینے کے پانی کیلئے دستیاب وسائل، ٹیوب ویلزاور ڈیمز کی تعداد سمیت دیگر تمام تفصیلات سمیت عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔ اس کیس کی سماعت منگل دس اپریل کو ہوگی۔چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا بنچ نجی میڈیکل کالجز کی فیسوں سے متعلق کیس کی سماعت بھی کرے گا۔
سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری کردہ کاز لسٹ کے مطابق سپریم کورٹ کے چار مختلف بنچز 9سے 13 اپریل تک مختلف آئینی درخواستوں، رٹ پٹیشنز، سول ریویو پٹیشنز اور کرمنل ریویو پٹیشنز کی سماعت کرینگے۔
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار، جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس سید منصور علی شاہ پر مشتمل تین رکنی بنچ 9،10اور اور 11اپریل تک ہر روز پندرہ مختلف مقدمات کی سماعت کریگا۔ سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس گلزار احمد اور جسٹس مشاہر عالم پر مشتمل تین رکنی بنچ 9 ،10 اور 11 اپریل کو چھ چھ مقدمات کو سنیں گے۔
جسٹس آصف سعید خان کھوسہ، جسٹس مشاہر عالم اور جسٹس سید منصور علی شاہ پر مشتمل ایک الگ بنچ 12اپریل کو چھ اور 13اپریل کو پانچ مقدمات کی سماعت کرے گا۔ جسٹس گلزار احمد اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل ایک اور بنچ 12اپریل کو 12اور 13 اپریل کو 8 مقدمات کی سماعت کریگا۔
سندھ پنجاب کے بعد چیف جسٹس کی بلوچستان آمد،صحت ، تعلیم اور پانی کے معاملات پر اعلیٰ حکام طلب
![]()
وقتِ اشاعت : April 9 – 2018